(١) مطلقہ عورت عدت گزارے بغیر شادی کر سکتی ہے؟
(۲) پرانے علاقے جیسے کھار در، سنیچر لائن میں مالکان جائیداد، جائیدا د کو گڈول پر دیگر بڑی بڑی رقمیں وصول کرتے ہیں ،لینے والا جب اسکو کسی اور شخص کے ہاتھ بیچنا چاہے تو مالک سے رابطہ کرتا ہے مالک پھر مزید مطالبہ کرتا ہے-
(3) ایک بیوہ عورت جسکے بیٹے اور بیٹیاں بھی ہیں حج کیلئے جانا چاہتی ہے آیا وہ اپنی بیٹی اورداماد کیساتھ جاسکتی ہے؟
(4) شیئرز کا کاروبار قبضہ کیے بغیر حلال ہے ؟ اور یہی کاروبار مستقبل کی بنیاد پر صحیح ہے ؟
(1)اگر کسی عورت کو ایک یا دو طلاقیں رجعیہ یا با ئن ہوگئی ہوں تو وہ دوران عدت سابق شوہر کے علاوہ کسی دوسرے سے نکاح نہیں کر سکتی ، اور اگر اسکے علاوہ عورت کا حکم معلوم کرنا ہو تو اسکی مکمل وضاحت لکھ کر دوبارہ سوال کریں، ان شاء اللہ اسکا حکم بھی بیان کر دیا جا ئیگا۔
(2) یہ طریقہ کاروبار شرعاً درست نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔
(3)مذکور عورت کا اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ حج کی ادائیگی کیلئے جانا شرعاً جائز ہے ۔
(4)شیرز کا کاروبار نہ مستقبل کی بنیاد پر صحیح ہے اور نہ قبضہ سے پہلے ، جبکہ شیئر پر اگر صرف حکمی قبضہ بھی ہو جائے، یعنی وہ ضمان (رسک /Risk) میں آجائے تو اسکے بعد اسکو آگے فروخت کرنا جائز ہے۔ البتہ احتیاط کا تقاضہ بہر صورت یہی ہے کہ جب تک مکمل قبضہ (ڈیلیوری - Delivery) نہ مل جائے اسوقت تک آگے فروخت نہ کیا جائے ۔
کما في البدائع: واما احكام العدة فمنها انه لا يجوز للاجنبی نكاح المعتدة لقوله تعالى ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب اجله (الی قولہ) ويجوز لصاحب العدة ان تتزوجها الخ (3/204)۔
وفی الدر المختار:وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف، وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة. المذهب عدم اعتبار العرف الخاص لكن أفتى كثير باعتبارهاوعليه فيفتى بجواز النزول عن الوظائف بمال اھ (4/518)۔
وفی الفتاوى الهندية :(ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا في الخلاصةاھ (1/218)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0