مباحات

قبرستان کے کسی حصے کو جنازہ گاہ بنانے کا حکم

فتوی نمبر :
47003
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

قبرستان کے کسی حصے کو جنازہ گاہ بنانے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
سوال: کیا قبرستان کے کسی حصے کو جنازہ گاہ بنا سکتے ہیں؟ جبکہ قبرستان کی زمین کافی ہے اور جس حصے کی میں بات کر رہا ہوں، اس میں کوئی قبر بھی نہیں ہے، جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور زمین اگر مستقلاً قبرستان کیلئے ہی وقف کی گئی ہو اور فی الحال یا مستقبل میں اس مقصد کیلئے مذکور زمین کے استعمال ہونے کے امکانات ہوں تو ایسی صورت میں اگرچہ مذکور زمین میں کافی جگہ خالی ہو، تب بھی اسے مستقلاً جنازہ گاہ بنانے کی شرعاً اجازت نہیں،جس سے احتراز لازم ہے،البتہ اگر خالی زمین میں نمازِ جنازہ ادا کیا جائے اور نماز کے دوران سامنے کوئی قبر نہ ہو تو اس کی اجازت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به فيجب عليه خدمة وظيفته أو تركها لمن يعمل اھ(4/433)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 47003کی تصدیق کریں
0     1041
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات