السلامُ علیکم امید ہیکہ ایمان و صحت کی بہترین حالت میں ہوں گے۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص سردیوں کے موسم میں پنکھے وغیرہ خریدتا ہے اور گرمیوں میں وہ اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں تو انہیں مہنگا فروخت کرتے ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے؟ کیا یہ منافع جائز ہے؟ راہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
جزاک اللّہ خیر
سردی کے موسم میں پنکھے وغیرہ کم قیمت پر خرید کر گرمیوں کے موسم میں قیمتِ خرید سے زیادہ پر فروخت کرکے نفع کمانا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی فقہ التاجر المسلم (تحدید ربح التجار) إن المتتبع لآیات القرآن الکریم ولأحادیث الرسول ﷺ لا یجد أنھا حددت مقدار أرباحھم بل جعلت ذلک حسب ظروف التجارۃ والسماحۃ والتیسیر وعدم الاستغلال، وقد ورد فی السنۃ النبویۃ ما یدل علی جواز أن یربح التاجر ضعف ثمن البضاعۃ فقد ورد فی الحدیث الذی عن عروۃ بن الجعد البارقی رضی اللہ عنہ قال: عرض للنبی ﷺ جلب فأعطانی دینارًا، وقال: أی عروۃ إئت الجلب فاشتر لنا ..... الی آخر الحدیث اھـ
ففی ھذا الحدیث نجد أن الرسول ﷺ قد أقر عروۃ علی بیعہ الشاۃ بدینار مع أنہ اشتراھا بنصف دینار فقد ربح فیھا ما نسبتہ 100% فھذا یدل علی جواز أن یربح التجار ھذہ النسبۃ بشرط أن لا یکون فی البیع غش أو خداع أو احتکار أو غبن فاحش. فالتاجر المسلم الملتزم بدینہ لا یتعامل بھذہ الطرق غیر المشروعۃ.
وقد ناقش مجمع الفقہ الإسلامی: مسألۃ تحدید أرباح التجار وقرر ما یلی: (الی قولہ) ثالثًا: تضافرت نصوص الشریعۃ الإسلامیۃ علی وجوب سلامۃ التعامل من أسباب الحرام وملابساتہ کالغش والخدیعۃ والتدلیس والاستغفال وتزھیف حقیقۃ الربح والاحتکار الذی یعود بالضرر علی العامۃ والخاصۃ. اھـ (ص: ٨٧)
وفی خصائص ومقومات الاقتصاد الإسلامی: مصلحۃ الجماعۃ مقدمۃ علی مصلحۃ الفرد فی حدود العدل والإنصاف (الی قولہ): کعدم احتکار أقوات الناس للإضرار بھم لحساب مصلحۃ شخصیۃ، کما ھو الحال لدی أصحاب رؤوس الأموال حینما یلجئون لکسب السوق، بتعطیل المصالح الجماعیۃ فلا یحل لفرد من الأفرا أن یبخل علی إخوانہ ببعض ما أتاہ اللہ فیبیعھم بالأسعار المناسبۃ المعقولۃ فضلا عن احتکار أقواتھم وأرزاقھم فقد جاء فی الحدیث أن المحتکر ملعون والجالب مرزوق. وھذہ ھی النظرۃ الإسلامیۃ لمصلحۃ الأفراد والجماعات، وھی فی حقیقتھا نظرۃ عادلۃ لا ظلم فیھا ولا حیف؛ لأنھا تقدر حق الفرد ولا تسقط من حسابھا حق الجماعۃ المتمثلۃ فی ھؤلاء الأفراد وتلک ھی سنۃ العدل والإنصاف. اھـ (ص:٢٠٧) واللہ اعلم بالصواب
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0