میری الیکرونکس کی شاپ ہے.. موجود ہ دور میں الیکرونکس اشیاء ہر گھر، دفتر اور میڈیا کی ضرورت ہے.. لیکن کچھ لوگ الیکرونکس آلات کا جائز استعمال کرتے ہیں اور کچھ ناجائز استعمال بھی کرتے ہیں... ایا کہ الیکڑونکس اشیاء اور آلات کا کاروبار جائز ہے... میں عمرہ پر گیا تھا تو مسجد نبوی کے دارلتفاء سے یہ مسئلہ پوچھا تھا انھوں نے کہا تھا کہ اگر اس کاروبار ، یا ایل سی ڈی اور ڈش انٹینا کو حرام کہے تو سارہ دن 2 ہمارے چینل جن پر سارا دن قرآن اور حدیث چلتی رہتی ہیں پھر اسے بھی غلط کہنا ہوگا... لہٰذا الیکڑونکس الات کا جو لوگ غلط استعمال کرتے ہیں ان کا گناہ بیچنے والے دوکاندار کو تو نہیں ہو گا.... اور اگر گاہگ ان آلات پر تلاوت قرآن پاک اور بیانات اور نعت رسول مقبول سنتااور دیکھتا ہے تو دوکاندار کو بھی ثواب ملے گا؟؟ اور الیکٹرانک کا کاروبار جائز ہے کہ ناجائز؟؟؟
واضح ہو کہ جو الیکڑونکس آلات محض جائز کاموں میں استعمال ہورہےہوں یا ان کاجائز اور ناجائز دونوں کے طرح کے استعمال ممکن ہو، تو ان آلات کی خریدفروخت اور کاروبارکرنا شرعاجائز اور درست ہے، اور ان کے ناجائز امور میں استعمال کرنے کی صورت میں اس کا گناہ استعمال کرنے والوں پر ہوگا، البتہ جن آلات کا جائز استعمال ممکن نہ ہو بلکہ ان کا استعمال فقط غیرشرعی اور ناجائز کاموں کے لیےمتعین ہوں، تو اس کی خریدوفروخت اور کاروبار کرنا شرعا بھی جائز نہ ہوگا۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0