کرپشن کی رقم مضاربت کے طور پر لے کر اس سے تجارت کرنا کیسا ہے؟
واضح ہو کہ کرپشن یعنی غیرقانونی اور غیرشرعی طریقہ سے کسی اور کا مال حاصل کرنا شرعاناجائز اور حرام ہے، اور یہ مال اصل مالکان تک واپس کرنا لازم اور ضروری ہےلیکن اگرکسی نے اس غیرشرعی طریقہ پر مال حاصل کرکے کاروبارکیاہو، اگرچہ اس کا یہ طرزعمل شرعاجائز نہیں تھا، جس پر توبہ واستغٖار اور آئندہ کے لیے اس سے مکمل اجتناب لازم ہے،تاہم اگرانہوں اسے جائزاورحلال کاروبارمیں انویسٹ کرکے نفع حاصل کیاہو، تو اس کے لیے یہ نفع حلال ہوگا، لیکن غیرشرعی طریقہ پر حاصل کردہ مکمل رقم اصل مالکان تک پہنچانا لازم ہے۔ورنہ مواخذہ اخروی سے سبکدوشی نہ ہوسکی گی۔
کمافی الفتاوى الهندية:
غصب حانوتا واتجر فيه وربح يطيب الربح كذا في الوجيز للكردري. (كتاب الغصب، الباب الثامن، ج:5/ ص:142)
(قولہ اکتسب حراما إلخ) توضیح المسألة ما فی التتارخانیة حیث قال: رجل اکتسب مالا من حرام ثم اشتری فہذا علی خمسة أوجہ: أما إن دفع تلک الدراہم إلی البائع أولا ثم اشتری منہ بہا أو اشتری قبل الدفع بہا ودفعہا، أو اشتری قبل الدفع بہا ودفع غیرہا، أو اشتری مطلقا ودفع تلک الدراہم، أو اشتری بدراہم أخر ودفع تلک الدراہم. قال أبو نصر: یطیب لہ ولا یجب علیہ أن یتصدق إلا فی الوجہ الأول، وإلیہ ذہب الفقیہ أبو اللیث، لکن ہذا خلاف ظاہر الروایة فإنہ نص فی الجامع الصغیر: إذا غصب ألفا فاشتری بہا جاریة وباعہا بألفین تصدق بالربح. وقال الکرخی: فی الوجہ الأول والثانی لا یطیب، وفی الثلاث الأخیرة یطیب، وقال أبو بکر: لا یطیب فی الکل، لکن الفتوی الآن علی قول الکرخی دفعا للحرج عن الناس اہ. وفی الولوالجیة: وقال بعضہم: لا یطیب فی الوجوہ کلہا وہو المختار، ولکن الفتوی الیوم علی قول الکرخی دفعا للحرج لکثرة الحرام اہ وعلی ہذا مشی المصنف فی کتاب الغصب تبعا للدرر وغیرہا (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 7/490،ط: زکریا، دیوبند)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0