کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ کیا مروّجہ اسلامی بینکوں (میزان بینک وغیرہ) کے ساتھ معاملات کرنا جائز ہے؟
پاکستان میں المیزان ، البرکۃ اور بنک الاسلامی کو بعض علماءِ کرام کی طرف سے جو کاروباری فارمولا بناکر دیا گیا ہے ، وہ اگرچہ دوسرے مروّج بنکوں سے کہیں بہتر ہے اور اس کے موافق انجام دیا جانے والا معاملہ شرعاً جائز بھی ہے ، مگر اس نظام کو چلانے والے افراد اصولِ شرعیہ سے ناواقفیت اور شرعی معاملات کی پیچیدگی سے جہالت کی بناء پر ، عموماً ان معاملات اور فارمولوں کو عملی طور پر بجالانے میں بہت سی غلطیوں کا شکار اور عملاً غیر اسلامی بنکوں کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں۔
جس کی بناء پر اہلِ علم کی ایک بڑی تعداد ، ان بنکوں کے ساتھ معاملات انجام دینے سے منع کرتی ہے اور ان کے ساتھ معاملات کو بھی دیگر عام سودی بنکوں کے مثل شمار فرماکر ، ناجائز ہی بیان فرماتے ہیں۔تاہم اگر یہ عملہ شرعی معاملات کی پیچیدگی کو ملحوظ رکھے اور انجام دئیے جانے والے معاملہ کو اہل علم سے اچھی طرح سمجھ کر انجام دیں تو اس صورت میں ان کے ساتھ معاملات انجام دینا بلاشبہ جائز اور درست ہوگا ، جبکہ ان کے ساتھ کوئی مخصوص معاملہ کرنے سے قبل اس کی مکمل تفصیلات علماءِ کرام کے سامنے رکھ کر اس کا حکمِ شرعی معلوم کرنا چاہئے۔ واﷲ اعلم
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0