کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بسا اوقات کسی بندے کو کیش رقم کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لئے یہ طریقہ رائج ہے کہ ضرورت مند شخص کسی سے بات کرکے اسے اس بات پر آمادہ کرلیتا ہے کہ وہ مارکیٹ سے ٹائر وغیرہ کیش رقم پر خرید کر ادھارمہنگے دام ضرورت مند شخص کو فروخت کردیتا ہے ،جس کے بعد ان ٹائروں کو اسی دکان یا مارکیٹ میں کسی دوسری جگہ نقد فروخت کردیتا ہے اور یہ رقم لے کر اپنی ضرورت پوری کردیتا ہے، اس سلسلے میں یہ رہنمائی مطلوب ہے کہ اس طرح کا معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے اور رقم لگوانے والے شخص کا اس خریدی ہوئی چیز پر قبضہ کس طرح متحقق ہوگا،
دوسرا سوال یہ ہے کہ بعض اوقات کسی بندہ کے پاس گاڑی خریدنے کے لئے رقم پوری نہیں ہوتی مثلاً اگر گاڑی کی کل مالیت ایک کروڑ روپے ہیں اور خریدار کے پاس پچھتر لاکھ روپے ہیں ،تو وہ بقیہ پچیس لاکھ روپے کسی سے بات کرکے انوسیمنٹ کرنے کا کہہ دیتا ہے ، تو اس کا شرعی طریقہ کا ر کیا ہوگا ، کیا 25 لاکھ روپے والا شخص پوری گاڑی خود خرید کر دوسرے بندے کو مہنگے دام فروخت کرے گا اور اس سے 75 لاکھ ورپے کیش وصول کریگا یا دونوں پارٹنر مل کر گاڑی خرید کر 25 لاکھ والا اپنا حصہ بعد میں مہنگے دام ادھار فروخت کردیگا اور اس صورت میں قبضہ کی کیا صورت ہوگی ؟ حکمِ شرعی بیان کرکے ممنون فرمائیں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق ضرورت مند شخص اگر کسی مجبوری کی وجہ سے کسی سے قرض طلب کرے تو اس کا سب سے بہتر اور افضل طریقہ یہ ہے کہ بغیر کسی معاوضہ اور لین دین کے اسے قرضِ حسنہ دیا جائے ،البتہ اگر کوئی شحص قرضِ حسنہ دینے کے بجائے کوئی چیز مثلاً ٹائر وغیرہ مارکیٹ سے خرید کر اس طور پر اپنے قبضہ میں لائے کہ اس چیز کا رسک اور ضمان خریدار کی طرف منتقل ہوجائے ، پھر وہ چیز موجودہ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر ایک متعین مدت کے لئے ضرورت مند شخص کوادھار فروخت کردے اور پھر وہ ضرورت مند شخص اس چیز کو مارکیٹ میں کسی اور شحص کے ہاتھ فروخت کرکے نقد رقم حاصل کرکے اپنی ضرورت پوری کرلے اور بعد میں مقررہ وقت آنے پر وہ ادھار پر خریدی ہوئی چیز کی طے شدہ قیمت ،فروخت کرنے والے کے حوالے کردے تو یہ صورت جائز ہے ، کیونکہ اس صورت میں جس شخص نے قرض طلب کرنے پر قرض دینے کے بجائے کوئی چیز ادھار پر فروخت کردی تھی تو وہ فروختگی درست تھی ، نیز وہ چیز فروخت کرنے والے کی طرف کسی حیلے کی بنیاد پر واپس بھی نہیں لوٹی ،نہ ہی اس نے خود خریدی اور نہ کوئی تیسرا شحص درمیان میں ایسا آیا جس نے یہ چیز خرید کر دوبارہ پہلے والے شخص کو بیچ دی ہو ، لہذا یہ صورت جائز ہے ، البتہ ضرورت مند شخص کو جو چیز فروخت کی گئی تھی اگر اس نے وہ چیز مارکیٹ میں کسی اور شخص کو فروخت نہیں کی ، بلکہ اس نے وہ چیز کم قیمت پر دوبارہ بیجنے والے کو فروخت کردی یا اس نے کسی طرح حیلہ کرکے تیسرے شخص کو درمیان میں لاکر وہ چیز واپس حاصل کرلی تو یہ صورت شرعاً ناجائز ہے ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
جبکہ دوسرے سوال میں جو تفصیل ذکر کی گئی ہے اس کے مطابق اگر مذکور شخص ابتداءً از خود گاڑی خرید کر اس کو اس طور پر اپنے قبضہ میں لائے کہ اس کا رسک اور ضمان مذکور شخص کی طرف منتقل ہوجائے ،اس کے بعد پھر ایک نئے عقد کے ذریعے اگر گاڑی کسی دوسرےشخص کو قیمتِ خرید سے زیادہ پر فروخت کردی جائے ،جس میں سے کچھ رقم (پچھتر لاکھ روپے) نقد وصول کرکے بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لئے کوئی مدت طے کی جائے ،تو شرعاً یہ معاملہ جائز اور درست ہوگا ،اسی طرح اگر ابتداءً دو افراد مل کر مشترکہ طور پر پچھتر اور پچیس فیصد کے تناسب سے گاڑی خرید کر اپنے قبضے میں لائیں ، پھر ان میں سے کوئی ایک شریک نئے عقد کے ذریعے اپنے حصے کی قیمت لگا کردوسرے شریک کو فروخت کردے اور دوسرا شریک بھی اس کے لینے پر رضامند ہو تو شرعاً اس میں بھی کوئی حرج نہیں ، تاہم دوسرے عقد اور معاملے سے قبل اگر کوئی نقصان ہوجائے، تو پہلی صورت میں مذکور شخص کے پورے نقصان ،جبکہ دوسری صورت میں ہر شریک پر اپنے تناسب سے نقصان کی ذمہ داری عائد ہوگی۔
کما فى الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: في بيع العينة) اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها . قال بعضهم : تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر و يستقرضه عشرة دراهم و لا يرغب المقرض في الإقراض طمعا في فضل لا يناله بالقرض فيقول لا أقرضك ، و لكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهما و قيمته في السوق عشرة ليبيعه في السوق بعشرة فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك ، فيحصل لرب الثوب درهما و للمشتري قرض عشرة . و قال بعضهم : هي أن يدخلا بينهما ثالثا فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهما و يسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة و يسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه و هو المقرض بعشرة و يسلمه إليه ، و يأخذ منه العشرة و يدفعها للمستقرض فيحصل للمستقرض عشرة و لصاحب الثوب عليه اثنا عشر درهما ، كذا في المحيط ، و عن أبي يوسف : العينة جائزة مأجور من عمل بها ، كذا في مختار الفتاوى هندية . و قال محمد : هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا . و قال - عليه الصلاة و السلام - «إذا تبايعتم بالعينة و اتبعتم أذناب البقر ذللتم و ظهر عليكم عدوكم» قال في الفتح : و لا كراهة فيه إلا خلاف الأولى لما فيه من الإعراض عن مبرة القرض اهـ ط ملخصا . (5/ 273)۔
و فی فقہ البیوع : و من البیوع المؤجلۃ مایسمی"عینۃ" و ھی علی اختلاف اصطلاح الفقہاء علی قسمیں : الأول : ما عرفہ النووی رحمہ اللہ تعالی بقولہ"و ھو أن یبیع غیرہ شیئاً بثمن مؤجل و یسلمہ الیہ ، ثم یشتریہ قبل قبض الثمن بأقل من ذلک الثمن نقداً ، فإن كان البيع الثاني مشروطاً في البيع الأول ، فهو بيع فاسد بالإجماع . أما إذا كان البيع الثاني غير مشروط في البيع الأول ، فهو جائز عند الشافعية . و قد أيد الإمام الشافعي رحمه الله تعالى جوازه بقوة ، و أطال في التدليل عليه في كتابه "الأم"":(۱/ ۵۴۷)۔
و فیہ ایضاً : و لکن منع العینۃ انما یتجہ اذابقی المبیع فی البیع الأول علی حالہ عندالبیع الثانی فان تغیرالمبیع بما أثر علی قیمتہ ، جاز البیع الثانی ، و لوکان الی البائع الأول . (۱/۵۵۰)۔
و فی درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام : "إذا عقد البيع على تأجيل الثمن إلى كذا يوما أو شهرا أو سنة أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز صح البيع . يعني أن التأجيل إذا كان بالأيام أو الشهور أو السنين أو بطريق آخر فهو صحيح ما دام الأجل معلوما۔( 1 /228)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0