کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ! تکافل اور انشورنس کے بارے میں؟ مکمل معلومات اور فرق بتائیں ، اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین
’’تکافل‘‘ جو قریب ہی انشورنس کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے ، اس کی مکمل تفصیلات ہمارے علم میں نہیں ، اس لئے کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی جبکہ ’’انشورنس‘‘ حقیقت کے لحاظ سے ، ایک سودی کاروبار ہے ، جو بینک کے کاروبار کے مثل ہے ، دونوں میں جو فرق ہے وہ شکل کا ہے ، حقیقت کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ، حقیقت میں اگر فرق ہے تو صرف اتنا کہ اس میں ربٰوا کے ساتھ ’’غرر‘‘ بھی پایا جاتا ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ بیمہ کرانے والا ،کمپنی کو روپیہ قرض دیتا ہے اور کمپنی اس قرض رقم سے سودی کاروبار یا تجارت وغیرہ کرکے نفع حاصل کرتی ہے ، اور اس نفع سے بیمہ کرانے والے کو بھی کچھ رقم بطورِ سود ادا کرتی ہے ، جس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس منفعت کے لالچ میں زیادہ سے زیادہ بیمہ کرائیں، بینک بھی یہی کرتے ہیں ، البتہ اس میں شرح سود مختلف حالات و شرائط کے اعتبار سے بدلتی رہتی ہے ، بینک میں عموماً ایسا نہیں ہوتا۔
’’انشورنس‘‘ اور ’’تکافل‘‘ کے درمیان فرق یہ ہے کہ ’’تکافل‘‘ وہ ایک امرِ مشروع ہے ، جس میں کسی قسم کا کوئی اشکال نہیں ہے ، وہ صرف تبرع اور بلا اجرت ، مفت عطیہ ہے ، وہ تعاون واحسان پر مبنی معاملہ ہے اور ’’انشورنس‘‘ ایک ناجائز عمل ہے۔
مزید ’’انشورنس‘‘ اور ’’تکافل‘‘ کے بارے میں مفصل ، مدلل ، مکمل معلومات چاہئے ، تو رسالہ ’’بیمۂ زندگی‘‘ مؤلفہ: مفتی محمد شفیع صاحبؒ ، ’’جدید فقہی مسائل‘‘ مؤلفہ : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور ’’اسلام اور جدید معیشت و تجارت‘‘ مؤلفہ : مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ، کسی بھی قریبی اسلامی کتب خانے سے حاصل کرکے مراجعت کرلی جائے۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0