مباحات

گارمنٹس کا مال منگواکر کسٹم والوں سے بذریعہ رشوت کلئیر کروانا

فتوی نمبر :
47722
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

گارمنٹس کا مال منگواکر کسٹم والوں سے بذریعہ رشوت کلئیر کروانا

کیا دبئی سے چائینہ سے موبائل اور کپڑے کی چیزیں کیری والے کے ذریعے سے منگوانا جائز ہے؟ جو کسٹم سے اپنی سیٹنگ سے مال کلیئر کرواتا ہے، کسٹم والوں کو ڈیوٹی کے بغیر رشوت دے کر ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جو چیزیں بیرون ملک سے منگوانا قانوناً ممنوع نہ ہوں، مگر دوسرے ملک سے منگوانے کی صورت میں حکومت کو ٹیکس دینا پڑتا ہو، لیکن ان اشیاء کو منگوانے والا ٹیکس سے بچنے کے لئے کسی کو رشوت دیکر اپنی اشیاء کو کلیئر کرواتا ہو، تو یہ گناہ کا باعث ہے، ایک تو حکومتی ٹیکس اور کسٹم کی چوری دوسرا رشوت کا گناہ ، اس لئے اس طرح اشیاء منگوانے سے احتراز لازم ہے، اور اب تک جو گناہ ہوا ہے، اس پر بصدقِ دل سے توبہ واستغفار لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی شرح مشکل الآثار: عن عبد اللہ بن عمرو، عن النبی ﷺ قال لعنۃ اللہ علی الراشی والمرتشی (14/334)۔
و فی رد المحتار: تحت (قوله ومع نهي ولي الأمر عنه إلخ) (الی قولہ) وفي شرح الجواهر: تجب إطاعته فيما أباحه الشرع، وهو ما يعود نفعه على العامة، وقد نصوا في الجهاد على امتثال أمره في غير معصية. الخ (6/460)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 47722کی تصدیق کریں
0     434
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات