میں ایک صنعتی سامان بیچنے والا ہوں، جو گاہک ہے وہ اسٹیل اور شراب بناتا ہے، کیا ہم ان کو صنعتی سامان جیسے ہارڈوئیر اور الیکٹریکل سامان فراہم کر سکتے ہیں، جو براہِ راست شراب کی تیاری میں استعمال نہیں ہوتی ہے۔
سائل کے لئے مذکور گاہک کو ہارڈوئیر ، اور الیکٹریکل سامان فروخت کرنا اور اس سے حاصل شدہ نفع کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے ۔
کمافي الفتاوى الهندية: ولو استأجر الذمي مسلما ليبني له بيعة أو كنيسة جاز ويطيب له الأجر كذا في المحيط اھ (4/ 450)۔
و في الدر المختار: (و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية ونقل المصنف عن السراج والمشكلات أن قوله ممن أي من كافر أما بيعه من المسلم فيكره ومثله في الجوهرة والباقاني وغيرهما زاد القهستاني معزيا للخانية أنه يكره بالاتفاق. (6/ 391)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل اھ (6/ 391)۔