نومولود بچے کے کان میں اذان کیوں دی جاتی ہے؟براہِ مہربانی تفصیل سے بیان فرما دیں؟
واضح ہو کہ نومولود بچہ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا مسنون ہے ،اس لیے اس کا اہتمام کرنا چاہیئے، تاہم اس کی حکمت یہ ہے کہ جو آواز بچے کے کان میں پہلے پڑتی ہے، اس کا اثر اس کے دماغ میں مستقل اور اس کی فطرت میں مرکوز ہو جاتا ہے، اس لیے شارع ﷺ نے بچے کے کان میں اذان دینا ٹہرایا ، کہ اس کی فطرت میں پہلی آواز جو اس کی ولادت کے بعد جاکر قائم ہو ، وہ توحید الٰہی اور رسالت نبوی کی آواز ہو ، کیونکہ وقت ولادت کی آواز بچے کی فطرت و طبیعت میں کالنقش فی الحجر ہو جاتی ہے۔ (احکام اسلام عقل کی نظر میں ) (53)
كما في مسند أحمد: عن عبيد الله بن أبي رافع، عن أبيه قال: «رأيت النبي صلى الله عليه وسلم أذن في أذن الحسن يوم ولدته بالصلاة» اھ (45/ 171)
وفي مسند أبي يعلى: عن طلحة بن عبيد الله، عن حسين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له فأذن في أذنه اليمنى وأقام في أذنه اليسرى لم تضره أم الصبيان» اھ (12/ 150)واللہ اعلم
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0