محترم مفتی صاحب السلام علیکم جناب پوچھنا یہ تھا کہ( 1 )ایک شخص اپنے پلاٹ میں پیسے خرچ کر کے بورنگ مشین سے بور کریں اور اس بورنگ میں میٹھا پاک پانی نکل آئیں تو کیا بورنگ کا وہ پانی بیچنا اُس شخص کے لیے جائز ہے یا نہیں ؟
(۲) ایک شخص پانی کی سرکاری لائن سے چوری کا کنکشن لیں اور اس پانی کو بیچیں تو اس کا بیچنا کیسا ہے ؟ ایسے شخص کی کمائی کا کیا حکم ہیں ؟ براہ کرم شریعت کی رو سے جواب دیں۔ شکریہ والسلام
ذاتی پلاٹ میں بورنگ کرنے کے بعد اگر کوئی شخص بو رنگ سے پانی نکال کر کسی ٹینکی وغیرہ میں محفوظ کرلے ، تو اس سے وہ شخص اس پانی کا مالک بن جاتا ہے، لہذا ایسی صورت میں مذکور شخص کے لیے اس پانی کو فروخت کرنے کی شرعاً اجازت ہے ، البتہ سرکاری لائن سے پانی چوری کر کے لوگوں کو فروخت کرنا عام لوگوں کی حق تلفی کی وجہ سے شرعانا جائز اور حرام ہے، اور ایسی صورت میں حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال نہ ہو گی، لہذا ایسا کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
كما فى الهداية في شرح بداية المبتدي: والرابع: الماء المحرز في الأواني وأنه صار مملوكا له بالإحراز، وانقطع حق غيره عنه كما في الصيد المأخوذ، إلا أنه بقيت فيه شبهة الشركة نظرا إلى الدليل وهو ما روينا، حتى لو سرقه إنسان في موضع يعز وجوده وهو يساوي نصابا لم تقطع يده. ولو كان البئر أو العين أو الحوض أو النهر في ملك رجل له أن يمنع من يريد الشفة من الدخول في ملكه إذا كان يجد ماء آخر يقرب من هذا الماء في غير ملك أحد، وإن كان لا يجد يقال لصاحب النهر: إما أن تعطيه الشفة أو تتركه يأخذ بنفسه بشرط أن لا يكسر ضفته، وهذا مروي عن الطحاوي، وقيل ما قاله صحيح فيما إذا احتفر في أرض مملوكة له. (4/ 388) والله اعلم بالصواب