(1)کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے براہِ راست اللہ سبحانہ و تعالٰی کو دیکھا ہے ؟ مہربانی فرما کر جواب دیں لیکن جواب دیتے ہوئے اس حدیث کا ضرورخیال کریں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جو انہوں نے قرآن کی ایک آیت کی تشریح میں کہی ہے کہ نہ اللہ تعالی کو براہِ راست کسی نے دیکھا ہے اور نہ دیکھ سکتا ہے
(2)کیا کوئی صحابی ، تابعی ، تبع تابعی نے کبھی بھی "یا رسول اللہ" کہا ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وہاں موجود نہ ہوں یا اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد مانگی ہے یا کسی کام کے لئے کہا ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود نہ ہوں ؟
(3)کیا آپ ﷺ نے نمازِ جنازہ کے بعد دعا مانگتے تھے ؟
(1)چونکہ مذکورہ مسئلہ میں صحابہ و سلفِ صالحین کا اختلاف رہا ہے، اس لئے بالجزم کسی رائے کو زیادہ متحقق قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم اکثر اور جمہور محققین اس رائے کو زیادہ قوی قرار دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رؤیتِ باری تعالیٰ نصیب ہوئی ہے
(2)نہیں سلف صالحین نے اسطرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارتے ہوئے ان سے مدد نہیں مانگی ،اگرچہ ازراہِ محبت وشوق اس قسم کا جملہ استعمال فرمایا ہے ،اس لئےاپنی پکار ،دعا، اور مدد کو اللہ تعالی کیلئے خالص کرتے ہوئے اس میں مذکورہ جملہ کو بعض دوسرے مقاصد کیلئے استعمال کرنے سے بھی احتراز چاہئیے , خاص کر اس وقت جبکہ مبتدعین نے اس کلمہ کو اپنی پہچان اور شعار بنا لیا ہو۔
(3)نمازہ جنازہ خود ایک دعا ہے اس کے بعد دعا مانگنا حضور صلی اللہ سے ثابت نہیں اس لئےاس کے التزام سے احتراز لازم ہے -
في شرح العقائد : ولهذا اختلف الصحابة رضى الله عنهم في ان النبي صلى الله علیه وسلم هل رأى ربه ليلة المعراج ام لا والاختلاف في الوقوع دليل الامکان (76)-
وفي شرح المسلم للنووي : قال القاضي عياض اختلف السلف والخلف هل رای نبینا صلی اللہ علیہ وسلم ربه ليلة الاسراء ...... أما صاحب التحرير فانه اختار اثبات الرؤية قال والحجج في هذه المسئلة وان كانت كثيرة ولكنا لا نتمسك الابالاقوی منها وهو حديث ابن عباس اتعجبون ان تكون الخلة لابراهيم والكلام لموسى والرؤية لمحمد صلى اللہ علیہ و سلم و عن عکرمۃ سئل ابن عباس هل راي محمد صلى الله عليه وسلم قال نعم و قدروی باسناد لا باس به عن شعبة عن قتادة عن انس رضی اللہ عنہ قال رأى محمد صلى الله عليه وسلم ربه وكان الحسن يحلف لقد رأیٰ محمد صلى الله عليه وسلم ربه (الی قولہ) فالحاصل ان الراجح عند اكثر العلماء ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رأیٰ ربه بعيني رأسه ليلةالاسراء (1/97)-
وفی جامع الترمذی:واذا سالت فاسئل اللہ واذا استعنت فاستعن بااللہ (2/78)-
و في البزازية : لايقوم بالدعاء بعد صلوة الجنازہ لانه دعامرة لأن اكثرها دعاء (4/80) -
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0