السلام علیکم!
مفتی صاحب،کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام پتھروں کے بارے میں،کیونکہ ایک طبقہ اس کا استعمال بطور انگوٹھی کے بہت نفع بخش سمجھتا ہے۔
اگرچہ انگوٹھی میں نگینے کے طور پر ہر قسم کا پتھر استعمال کرنا جائز اور عقیق پتھر سے متعلق بعض روایات میں اس کا مبارک ہونا بھی ثابت ہوتا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ پہننے والے کیلئے نفع و نقصان میں ان پتھروں کا بھی دخل ہے کیونکہ مؤثرِ حقیقی اللہ تعالٰی ہی کی ذات ہے اور کسی کو نفع نقصان پہنچانے میں پتھروں کا کوئی عمل دخل نہیں، لہذا اس قسم کے عقائد و نظریات سے احتراز لازم ہے۔
کما في الدر: صحح السرخسي جواز اليشب والعقيق قال ابن عابدين قوله والعقيق قال في غرر الأفكار والأصح أنه لا بأس به لأنه عليه السلام تختم بعقيق وقال تختموا بالعقيق فإنه مبارك (6/360)
وفيه أيضاً : لا بالفص فيجوز من حجر وعقيق و یاقوت وغيرها(6/360)
وفي المرقاة : وقال الشارح يعني من اعتقد أن شيئا سوى الله ينفع بالاستقلال فقد أشرك ای شرکا جلیا(8/349)-