ہم نے ایک بزرگ کا واقع سنا ہے کہ طوائف خانہ میں گئے اور اس طوائفہ کو اجرت دے کر کہا دروازہ بند کر، غسل کر، وضو کر اور نماز پڑھ اور پھر اللہ تعالیٰ سے کہا کہ میں نے آج لوگوں کو زنا سے بچا لیا، کیا ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں؟
سوال میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اس واقعہ کا اگر چہ کتابوں میں ذکر ملتا ہے، لیکن یہ کام وہ حضرات کر سکتے ہیں جنہیں ریاضتوں اور مجاہدات کی وجہ سے اپنے نفس پر کنٹرول حاصل ہو چکا ہو، لہٰذا کسی بھی عام شخص کا اس طرزِعمل کو اپنانے میں چونکہ از خود فتنے میں پڑنے اور لوگوں کے ہاں متّہم ہونے کا اندیشہ ہے، اس لئے کسی عام شخص کے لیے خلوت اور تنہائی میں کسی خاتون سے ملنے سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ اگرشرعی حدود کا لحاظ رکھتے ہوئے جماعت کی شکل میں یا با قاعدہ پردے کا لحاظ کرتے ہوئے ایسی خواتین کی وعظ و نصیحت و تبلیغ کے ذریعے اصلاح کی کوشش کی جائے، تو نہ صرف یہ کہ جائز بلکہ بہت بڑے اجر و ثواب کا کام ہے۔
كما في تفسير ابن كثير: ولا تقربوا الزنى إنه كان فاحشة وساء سبيلا۔ (سورة اسراء:32)
يقول تعالىٰ ناهيا عباده عن الزنا وعن مقاربته ومخالطة أسبابه ودواعيه ولا تقربوا الزنى إنه كان فاحشة أي ذنبا عظيما وساء سبيلا أي بئس طريقا ومسلكا.
وقد قال الإمام أحمد: حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا جرير حدثنا سليم بن عامر عن أبي أمامة إن فتى شابا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ائذن لي بالزنا، فأقبل القوم عليه فزجروه، وقالوا: مه مه، فقال "ادنه" فدنا منه قريبا، فقال "اجلس" فجلس، فقال "أتحبه لأمك"؟ قال: لا والله، جعلني الله فداك، قال: ولا الناس يحبونه لأمهاتهم، قال: "أفتحبه لابنتك"؟ قال: لا والله يا رسول الله، جعلني الله فداك، قال: ولا الناس يحبونه لبناتهم. قال: "أفتحبه لأختك"؟ قال: لا والله، جعلني الله فداك، قال: ولا الناس يحبونه لأخواتهم، قال "أفتحبه لعمتك"؟ قال: لا والله يا رسول الله، جعلني الله فداك، قال: ولا الناس يحبونه لعماتهم، قال "أفتحبه لخالتك"؟ قال: لا والله يا رسول الله، جعلني الله فداك، قال: ولا الناس يحبونه لخالاتهم، قال فوضع يده عليه، وقال "اللهم اغفر ذنبه، وطهر قلبه، وأحصن فرجه" قال: فلم يكن بعد ذلك الفتى يلتفت إلى شيء، وقال ابن أبي الدنيا: حدثنا عمار بن نصر، حدثنا بقية عن أبي بكر بن أبي مريم عن الهيثم بن مالك الطائي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "ما من ذنب بعد الشرك أعظم عند الله من نطفة وضعها رجل في رحم لا يحل له" اھ (5 /66)