کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور حضرت محمدﷺ میں فقط نام کا فرق ہے، اس کو سجدہ ہے، اس کو سجدہ نہیں کروایا ،باقی کسی بات میں فرق نہیں تھا ،جو خصائص خداکے تھے، وہی خصائص مصطفی ﷺ کے تھے، اس لۓ کہ وہ تو آیا ہی خدا کے نور میں سےتھا اوروحی بھیجنے والا بھی خود تھا اور وحی جس پر آتی تھی، وہ بھی وہی تھا ،گویا خدا اور نبی ﷺدونوں ایک ہیں، صرف نام کا فرق ہے، رسول ﷺ نے فرمایا ’’جس نے مجھے دیکھ لیا، اس نے خداکو دیکھ لیا، میں خدا کا آئینہ ہوں، میں نے زمین بنتی دیکھی ،آسمان بنتا دیکھا، لوح وقلم بنتے دیکھے، میرے نور کو بنایا، خواہ زمین کی چیز بنائی، خواہ آسمانی کی چیز بنائی، میں نے دیکھی اور جس طرح اللہ تعالیٰ حاضر ناظر ہیں، اسی طرح حضرت محمد ﷺ بھی حاضر وناظر ہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ ہمیں نظر نہیں آتے ،لیکن ہر جگہ موجود ہیں، اسی طرح حضرت محمد ﷺہر جگہ موجود ہیں، لیکن نظر نہیں آتے ۔
اورنیز اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’غوثِ اعظم‘‘ ہی اسم اعظم ہے اور ہمیں سب کچھ غوث اعظم ہی دیتا ہے، اس شخص کی غوثِ اعظم سے مراد پیرانِ پیر حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒہیں ۔
1۔ اب سوال ہے کہ ایسے عقائد رکھنے والے شخص سے ایک سنی صحیح العقیدہ دیوبندی خاتون کا نکا ح جائز ہے یا نہیں؟
2۔ اگر لڑکی کے والدین مجبور کرکے ایسے شخص سے نکاح کرادیں تو نکاح ہوگا یا نہیں؟
3۔اور اگر یہ نکاح ہو چکا ہو تو پھر لڑکی نکاح کو برقرار رکھتے ہوئے حقوقِ زوجیت ادا کرے یا علیحدگی اختیار کرے؟
4۔ اور اگر اسی دوران وہ حاملہ ہو جائے تو اس نطفہ کا کیا حکم ہے ازراہِ لطف وکرم جواب سے مطلع فرماکر عند اللہ ماجور ہوں؟
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور جھوٹ کا سہارا بھی نہ لیا گیا ہو تو مذکور عقائد رکھنے والا شخص کافر ومرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، ایسے شخص کے ساتھ کسی بھی صحیح العقیدہ سنی خاتون کا عقدِ نکاح ناجائز و حرام ہے ، لڑکی کے والدین اگر زبردستی لڑکی کو مجبور کرکے بھی یہ نکاح کرنا چاہیں، تب بھی یہ نکاح منعقد نہیں ہو گا اور اگر یہ نکاح پہلے سے ہو چکاہو تو عورت پر لازم ہے کہ فوراً علیحدگی اختیار کرے اور اس کو اپنے اوپر بالکل قدرت نہ دے، اسی طرح اس کے والدین پربھی لازم ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو شخصِ مذکور کے تسلط سے آزاد کر دیں ، البتہ اس دوران اگر عورت حاملہ ہو گئی ہو تو یہ حمل ثابت النسب کہلائے گا، اس کا گرانا درست نہیں،اور پیدائش کے بعد چونکہ ماں مسلمان ہے تو بچہ ماں کے تابع ہوگا اور مسلمان ہی رہے گا۔
قال اللہ تعالی: و لاتنکحوا المشرکین حتی یومنوا و لعبد مؤمن خیر من مشرك و ولو اعجبکم اھ ( سورۃ البقرۃ آیت 221)۔
و فی مجموعة الفتاویٰ: أو إضافة البیت إلی اللہ تعالیٰ للتشریف وبھذا المعنی یقال للمسجد بیت اللہ ونور نبیناﷺ أنه خلق من نور اللہ أو أنه نور من اللہ تعالیٰ أخذ قبضة من ذاته التی ھی نور وجعله نور حبیبه وتکون الذات الالهیة مادة المحمدیة تعالیٰ اللہ عن ذلك علوا کبیراً اھ(ص:۲/۲۴۴)۔
وفی الھداية: لایجوز ان یتزوج المرتد مسلمة و لا کافرة و مرتدة اھ(2/345)۔
وفی التنویر: و الولد یتبع خیر الأبوین دینا اھ (ص196)۔
وفی الشامية: بأن كانا كافرين فأسلم أو أسلمت ثم جاءت بولد قبل العرض على الآخر، والتفريق أو بعده في مدة يثبت النسب في مثلها أو كان بينهما ولد صغير قبل إسلام أحدهما فإنه بإسلام أحدهما يصير الولد مسلما اھ(3/196)۔
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0