کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک دوست ہے جسکے پاس ایک کتاب ہے ’’حق کی تلاش‘‘ تحریر محمد نجم مصطفائی ،ناشر مکتبہ تحقیقات اسلامیہ حنفیہ" اس کتاب کے اندر کچھ باتیں ایسی ہیں جو بظاہر علماءِ دیوبندکے خلاف لگتی ہیں :
(1)۔ پس جو لوگ حضورؐ کو عطاءِ الٰہی سے غیب دان مانتے ہیں ، وہ مشرک نہیں ، بلاشبہ وہ اہلِ ایمان ہیں اور جو مسلمان حضورؐ کے غیب دان ہونے کا انکار کرتے ہیں ،ایسے لوگ قرآن و احادیث کے منکر ہیں ، ان کے اس انکار سے قرآن کی کئی آیات کا انکار ہو جائیگا جو یقیناً کفر ہے ۔(ص:108) ۔
(2)۔آپ پہلے نور بعد میں بشر ہیں ،اللہ نے آپ کی ذات بابرکت کی تخلیق بشریت کی ابتداء سے پہلے کی ہے، مگر دنیا میں لباسِ بشری میں جلوہ افروز ہوئے۔ (ص:110) ۔
(3)۔ محترم مسلمانوں کے کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضورؐ ہماری طرح ایک بشر ہیں ان کا یہ عقیدہ قرآن مجید کی اس آیت کی روشنی میں ہے ’’قل انما انا بشر مثلکم‘‘ مذکورہ بالا آیت کریمہ میں لفظ ’’قل ‘‘ پر غور فرمائیے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب پیغمبر سے ارشاد فرماتا ہے، اے میرے محبوب! میں آپ کو بشر نہیں کہوں گا ، بلکہ آپ خود ہی اپنی زبان سے کہہ دیں ان کفار مشرکین سے کہ ظاہری صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں ،معلوم ہوا کہ خالقِ کائنات نے اپنے پیغمبر کو خود بشر نہیں کہا ، بلکہ حضورؐ سے کہلوایا الخ (ص:112)۔
(4)۔ اللہ کے نزدیک نیک بندوں سے مدد طلب کرنا توحید کے ہر گز خلاف نہیں ۔(ص123)۔
(5)معلوم ہوا اللہ کے سوا غیر سے مدد طلب کرنا سنتِ انبیاء اور منشاءِ الٰہی ہے،(ص122)۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس قسم کے آدمی کے بارے میں جو اپنی طرف سے تفسیر کرتے ہیں ، شریعت کیا حکم لگاتی ہے ؟ اور ان کی یہ کتاب پڑھنا اور لوگوں کو پڑھنے کیلۓ دینا جائز ہے یا نہیں ؟اور اس قسم کے لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنا کیسا ہے ؟براہِ کرم جلد جواب عنایت فرمائیں۔
مذکور کتاب تو ہماری نظر سے نہیں گزری، البتہ اس قسم کے اعتقادات قرآن و سنت کی روشنی میں اہلِ سنت و الجماعت کے اعتقادات و نظریات کے سراسر خلاف ہیں ، اس لۓ اولاً تو عام مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس قسم کی کتابوں کے مطالعہ سے احتراز کریں ، اور ثانیاً عوام و خواص سب پر لازم ہے کہ وہ حکومتِ وقت پر زور دیں کہ وہ اس قسم کی کتابوں کی نشاندہی کے بعد انہیں ضبط کرے اور پھر ان کے بالاستیعاب مطالعہ کے بعد جب انہیں اہلِ سنت و الجماعت کے اعتقادات و نظریات کے خلاف پائے تو ان کے مصنفین کو تعزیراً قرارِ واقعی سزادے ، تا کہ آئندہ کیلۓ بھی اس قسم کے فتنوں کا سدِ باب ہو سکے۔
فی تفسیر ابن کثیر : و اما تفسیر القرآن بمجرد الرأی فحرام لما رواہ محمد بن جریر -رحمه اللہ- قال: (الی ان) عن ابن عباس عن النبی -صلی الله علیه و سلم- قال "من قال فی القرآن برايہ او بما لایعلم فلیتبوأ مقعدہ من النار " اھ(1/11)۔
و فیه ایضا : عن جندب ان رسول اللہ -صلی اللہ علیه وسلم- "من قال فی القرآن برايہ فقد اخطاء" و فی لفظ لھم "من قال فی کتاب اللہ برايہ فأصاب فقد اخطاء" اھ(1/11)۔
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0