۱۔ مفتی صاحب! مجھے یہ جاننا ہے کہ اگر میں دوست کو خط لکھتا ہوں ، جس میں غیر شرعی بات لکھی ہے تو جب تک اس کے پاس وہ خط پڑا ہے، مجھے گناہ ملتا رہے گا، اگر میں توبہ کرنا چاہوں تو کیا مجھے دوست کو بتانا پڑے گا کہ وہ خط پھاڑ دو ، اور اگر ہمت نہیں ہے اس کو یہ کہنے کی ، تو توبہ کیسے کی جا سکتی ہے؟ اسی قسم کے دوسرے مسائل میں توبہ کس طرح کی جائے؟
۲۔ میں نے کچھ عرصہ پہلے کسی دوست کو غلط کام کرنے کا مشورہ دیا اور مجھے علم نہیں کہ اس نے وہی غلط کام کر دیا ہے ، جس کا میں نے اس کو مشورہ دیا تو کیا مجھے اس دوست سے پوچھنا پڑے گا ،کہ وہ غلط کا م کر رہاہےکہ نہیں ، اور اسے اس کام سے منع کرنا پڑے گا ، اگر نہیں تو توبہ کس طرح کی جائے؟
(۲،۱)۔اگر متعلقہ دوست نے عمل کر رہا ہو ،تو اس کو حتی الوسع روکنا اور توبہ کرنا اور عمل نہ کیا ہو ، تو صرف توبہ کرنا لازم ہے ،تاہم اگر کوئی شخص اس قسم کے تمام گناہوں سے توبہ کرنا چاہے تو اس کا یہ عمل بلاشبہ جائز اور قابلِ تحسین ہے ، اور اس میں تاخیر کرنا قطعاً درست نہیں ، اور اگر کسی دوست کو گناہ سے روکنا ممکن نہ ہو تو اس کے حق میں ہدایت کی دعا ضرور کرنی چاہیے۔