مفتی صاحب! مجھے یہ جاننا ہے کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقۂ جہاد کیا تھا؟ اور ہمارے نبی ﷺ کی زندگی کا مقصد کیا تھا؟
جہاد کی دو صورتیں ہیں : اقدامی اور دفاعی ، پہلی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا عمومی طریقہ یہ تھا کہ پہلے کفار کو دعوتِ اسلام دیتے ، اگر وہ اس سے انکار کرتے تو جزیہ ادا کرکے انہیں ماتحت رہنے کا حکم صادر فرمادیتے، اگر وہ اس سے انکار کرتے تو پھر قتال فرمایا کرتے تھے ، جبکہ حتی الامکان نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ لڑائی کی نوبت نہ آئے ، بلکہ معاملہ صلح سے حل ہوجائے اور کفار میں سے جو ہتھیار ڈال دیتا، اسے معاف فرمادیتے ، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں سے بھی قتال نہ فرماتے تھے، جبکہ جہاد پر روانہ ہو نے کے لیے صبح کا وقت منتخب فرماتے تھے ۔
اور دفاعی جہاد میں یہ صورت نہیں تھی، بلکہ ممکنہ طور پر ان کا حملہ روکنے کی تدبیر فرماتے اور انہیں نقصان پہنچا کر مغلوب فرمانے کی سعی فرماتے تھے، جبکہ آپ کی بعثت کے بہت سے مقاصد میں سے ایک یہ تھا کہ آپ دینِ اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب فرمادیں۔
قال اللہ تعالیٰ : ھو الذی ارسل رسوله بالھدیٰ و دین الحق لیظھرہ علی الدین کله و لو کرہ المشرکین (سورۃ آیة:۹)۔
و فی سنن الترمذی : عن سليمان بن بريدة عن ابيه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا بعث أميرا على جيش أوصاه في خاصة نفسه بتقوى الله و من معه من المسملين خيرا و قال أغزو بسم الله و في سبيل الله قاتلوا من كفر بالله و لا تغلو و لا تغدروا و لا تمثلوا و لا تقتلوا وليدا فإذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى إحدى ثلاث خصال أو خلال أيها أجابوك فاقبل منهم و كف عنهم و ادعهم إلى الإسلام و التحول من دارهم إلى دار المهاجرين و أخبرهم إن فعلوا ذلك فإن لهم ما للمهاجرين و عليهم ما على المهاجرين و إن أبوا أن يتحولوا اھ(1/195)۔
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0