مباحات

طائف میں حضور سے منقول دعا اپنے غرض کے لئے مانگنا

فتوی نمبر :
60250
| تاریخ :
2022-11-10
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

طائف میں حضور سے منقول دعا اپنے غرض کے لئے مانگنا

السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے ہیں کہ اگر کوئی شخص جو پریشان حال ہو ،کسی بھی وجہ سے سے اس کا دل ٹوٹا ہوا ہو ،اور وہ شخص دعا مانگے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف کے سفر میں میں دعا مانگی تھی کیا جائز ہے یہ دعا مانگنا؟
’’ اے اللہ میں تجھ ہی سے اپنی بے بسی کا شکوہ کرتا ہوں ، یہ مجھے رسوا کرنا چاہتے ہیں اس کا شکوہ بھی تجھ ہی سے کرتا ہوں ، اے سارے مہربانوں سے زیادہ مہربان اے میرے پرودگار!آپ مجھے کن کے حوالے کر رہے ہیں ، جو مجھ سے دور ہیں جو مجھ سے منہ چڑھا کر بات کرتے ہیں۔
اے اللہ! اگر تو مجھ سے ناراض نہیں اور اگر مجھ پر تیرا عتاب نہیں , تو مجھے کسی بھی بات کی پرواہ نہیں ، خداوندا! تیرا تیری عافیت کا دامن بہت وسیع ہے، اے اللہ !میں پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ مجھ پر تیرا غضب پڑے یا عتاب نازل ہو ، تجھ ہی کو منانا ہے ، اور اس وقت تک منانا ہے، جب تک تو راضی نہ ہو جائے۔ ‘‘

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں!سوال میں مذکور الفاظ کےساتھ دعا مانگنا جائز ہے اور درست ہے ، شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ۔واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 60250کی تصدیق کریں
1     876
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات