کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کا خون دوسرے آدمی کو چڑھانا کیسا ہے؟ اگر جائز ہے تو کسی عورت کو کسی غیر محرم مرد کا خون چڑھایا جاسکتا ہے؟
عام حالات میں تو کسی کو خون دینا جائز نہیں ، اس لئے کہ ایک تو اعضائے انسانی کے احترام کے خلاف ہے اور دوسرے اس لئے کہ خون نجاستِ غلیظہ ہے اور نجس اشیاء کا استعمال ناجائز ہے ، لہٰذا عام حالات میں اس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ علاج اور دوا کے طور پر حالتِ اضطرار میں اس کا استعمال بلاشبہ جائز اور درست ہے ، اور ’’حالتِ اضطراری‘‘ سے مراد یہ ہے کہ مریض کی جان کا خطرہ ہو ، اور دوسری دوا اس کی جان بچانے کیلئے مؤثر یا موجود نہ ہو ، اور خون دینے سے اس کی جان بچ جانے کا ظنِ غالب ہو ، چنانچہ ان شرائط کے ساتھ خون دینا شرعاً جائز اور درست ہے اور اس حکم میں مرد ، عورت ،محرم اور غیرمحرم کے خون کا کوئی فرق نہیں ، سب برابر ہیں۔
کما فی الفتاویٰ الہندیۃ :’’و یجوز للعلیل شرب الدم، والبول، واکل المیتۃ للتداوی إذا أخبرہ طبیب مسلم أن شفائہ فیہ ولم یجد من المباح ما یقوم مقامہ‘‘۔( ج ۵، ص۳۵۵)