کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو حضور ﷺ کی بشریت کا انکار کرے ، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آیا وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
حضور کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے متعلق بشریت کا انکار قرآنِ کریم کی واضح اور صریح آیات کے انکار کو مستلزم ہونے کی وجہ سے کفریہ قول ہے ، جو شخص آپ کی بشریت کے انکار کا عقیدہ رکھتا ہے بلاشبہ وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو چکا ہے، توبہ و استغفار ،تجدیدِ ایمان و نکاح اس پر لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾(الكهف: 110)۔
و فی صحيح البخاري: عن زينب بنت أم سلمة، عن أم سلمة، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «إنما أنا بشر، و إنكم تختصمون الخ (9/ 25)۔
و فی تفسير روح المعاني: و قد سئل الشيخ ولي الدين العراقي هل العلم بكونه - صلى الله عليه وسلم - بشرا و من العرب شرط في صحة الإيمان أو من فروض الكفاية؟ فأجاب بأنه شرط في صحة الإيمان، ثم قال: فلو قال شخص: أومن برسالة محمد - صلى الله عليه وسلم - إلى جميع الخلق لكن لا أدري هل هو من البشر أو من الملائكة أو من الجن، أو لا أدري هل هو من العرب أو العجم؟ فلا شك في كفره لتكذيبه القرآن و جحده ما تلقته قرون الإسلام خلفا عن سلف و صار معلوما بالضرورة عند الخاص و العام و لا أعلم في ذلك خلافا فلو كان غبيا لا يعرف ذلك وجب تعليمه إياه فإن جحده بعد ذلك حكمنا بكفره انتهى(2/ 325،۲۵۲)۔
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0