کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم آپ ﷺ کو ’’حضور‘‘ کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ کہا جا رہاہے کہ حضور کے معنی ہیں حاضر و ناظر، ہم ’’حضور‘‘ کہیں یا ’’حضرت‘‘؟ کیونکہ مولانا زکریا رحمہ اللہ علیہ اور مولانا مفتی شفیعُ صاحب وغیرہ حضرات نے اپنی کتابوں میں حضورﷺ تحریر کیا ہے ، اس بارےمیں آپ کیا کہتے ہیں؟ یہ صحیح ہے یا غلط؟ کیونکہ مولانا زرولی خان صاحبؒ گلشن اقبال والے فرماتے ہیں کہ بریلوی حضرات زیادہ ’’حضور‘‘ کہتے ہیں، جس کےمعنی حاضر و ناظر کے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم ’’حضور‘‘ نہ کہیں ، اس مسئلہ کا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دے کر ہمیں آگاہ کریں۔
اگرچہ عربی زبان میں لفظ ’’حضور‘‘ موجود ہونے کےمعنی میں استعمال ہوتا ہے، مگر عربی زبان میں یہ اس طرح نام کے ساتھ نہ تو لکھا جاتا ہے اور نہ ہی بولا جاتا ہے، البتہ اردو زبان میں یہ لفظ بطورِ ادب و احترام ’’جناب والا‘‘ وغیرہ کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے‘‘، اور اسی مقصد کے لیے نبی کریم ﷺ کے نامِ گرامی کے شروع میں لکھا یا بولا جاتا ہے۔
ہاں! اگر کوئی شخص اس لفظ سے نبی کریم ﷺ کے حاضر ناظر ہونے پر دلیل پکڑے تو یہ اس کے عربی و اردو لغت سے جہالت پر مبنی ہے اوراس مفہوم میں اس کا استعمال جائز نہیں رہے گا۔
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0