کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک پڑھے لکھے آدمی نے اسلام کے بارے میں کافی جان بوجھ رکھنے کے با وجود یہ چیز بتائی کہ آپﷺ شہر سے باہر جہاں قافلے آتے رہتے تھے ادھر بیٹھ جاتے اور قافلوں کے لوگوں سے پُرانے قصے یعنی پہلے کے تمام انبیاءِ کرام کے واقعات سنتے رہتے اور نعوذ باللہ آپ نے یہ تمام قصے قرآن بنا کر بیان کردیئے۔
۱۔ قرآنِ کریم کے مُنزّل مِن اللہ ہونے پر خود قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر توجہ دلائی گئی ہے اور اس پر تنبیہ بھی وارد ہوئی ہے، جیسا کہ درجِ ذیل آیات اس پر شاہد ہیں:
قال اللہ تعالیٰ: ﴿نَزَّلَ عَلَیک الْکتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَینَ یدَیہ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاۃ وَالْانْجِیلَ﴾(آل عمران: 3)۔
و قال اللہ تعالیٰ: ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکرَ وَإِنَّا لَہ لَحَافِظُونَ﴾ (الحجر: 9)۔
و قال اللہ تعالیٰ:﴿تَنْزیلَ الْعَزِیزِ الرَّحِیمِ﴾(يس:۵)۔
و قال اللہ تعالیٰ: ﴿تَنْزِیلُ الْکتَابِ مِنَ اللَّہ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ﴾(غافر: 2)۔
کسی شخص کا ایسی صریح اور واضح آیاتِ قرآنیہ کے خلاف عقیدہ رکھنا سوائے کفر و ارتداد کے اور کیا ہو سکتا ہے ،لہٰذا شخصِ مذکور اور اس کے متبعین و ہمنوا ساتھیوں پر لازم ہے کہ اپنے اس باطل عقیدہ سے بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں ،آئندہ کے لیے ایسی کفریات بولنے سے مکمل اجتناب کریں اور تجدید ایمان و نکاح بھی کریں۔
و فی حاشیة شرح العقائد: فکل من أنکر آیة من ھذہ الکتب فھو کافر (ص:۱۴۳)۔
و فی البحر: و یکفر اذا أنکر آية من القرآن (إلی قوله) و باعتبار ان القرآن مخلوق حیقیقة (۵/۱۲۲)۔
و فی الدر المختار: وفي شرح الوهبانية للشرنبلالي: ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح و أولاده أولاد زنا، و ما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار و التوبة و تجديد النكاح۔(4/246)۔
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0