مباحات

صوفی برکت علی کی ٹوپی پہننا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
60807
| تاریخ :
2022-11-25
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

صوفی برکت علی کی ٹوپی پہننا جائز ہے ؟

یہ جو صوفی برکت علی کے مرید ہیں وہ ایک الگ قسم کی ٹوپی پہنتے ہیں اور یہ سنت کے خلاف بھی ہے۔ وہ کسی اعتبار سے ٹوپی کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتی۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ قبر کی یاد دلاتی ہے۔ کیا یہ پہننا جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نبی کریم ﷺ سے سر مبارک پر عمامہ کے ساتھ ٹوپی اور اس کے بغیر بھی مختلف قسم کی ٹوپی پہنا ثابت ہے، اس لیے ٹوپی کی کوئی خاص ہیت اور وضع شرعا مقرر نہیں بلکہ جس ٹوپی کا پہنا علماء امت اور صلحاء کا معمول ہو وہ پسندیدہ ہے لہذا صوفی برکت علی کے مریدین جو ٹوپی پہنتے ہیں اگر اس کی ہیئت اکابرین امت اور صلحاء اور عام مسلمانوں کے ہاں استعمال ہونے والی ٹوپی سے الگ نہ ہو تو اس کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في رد المحتار : (قوله والاعتجار) لنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عنه. وهو شد الرأس، أو تكوير عمامته على رأسه وترك وسطه مكشوفا وقيل أن يتنقب بعمامته فيغطي أنفه إما للحر أو للبرد أو للتكبر إمداد، وكراهته تحريمية أيضا لما مر (652/1)
وفي الفتاوى الهندية : وتكره الصلاة حاسرا رأسه (106/1) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شمس الدین لکھمیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 60807کی تصدیق کریں
0     639
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات