مباحات

کیا پیسے گننا شرعاً ممنوع ہے؟

فتوی نمبر :
6160
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کیا پیسے گننا شرعاً ممنوع ہے؟

السلام علیکم!
محترم مفتی صاحب اگر کسی آدمی کو پیسے گننے کی عادت ہو تو کیا یہ برا ہے؟ کسی حدیث میں اس سے ممانعت آئی ہے ؟ اگر کوئی ویسے ہی بغیر لالچ کےگنے تو اس میں کوئی قباحت ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کوئی نیتِ فاسدہ اور مال کی محبت اس کا باعث نہ ہو تو اگر چہ یہ عمل شرعاً ممنوع اور ناجائز تو نہیں، تاہم اسے معمول بنانے سے دل میں مال کی محبت پیدا ہونے اور اعمال خیر میں سستی اور فسق میں پڑنے کا باعث ضرور ہے۔ اس لئے بلا ضرورت ایسا کرنے سے احتراز چاہئیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی تفسير القاسمي: ﴿الَّذِي جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ﴾ أي أحصى عدده ولم ينفقه في وجوه البر. قال الإمام: أي أن الذي يحمله على الحط من أقدار الناس، هو جمعه المال وتعديده. أي عده مرة بعد أخرى، شغفا به وتلذذا بإحصائه. لأنه لا يرى عزّا ولا شرفا ولا مجدا في سواه. فكلما نظر إلى كثرة ما عنده منه، انتفخ وظن أنه من رفعة المكانة، (إلی قوله) لأن غروره بالمال أنساه الموت وصرف عنه ذكر المآل فهو ﴿يَحْسَبُ أَنَّ مالَهُ أَخْلَدَهُ﴾ اھ (9/ 539)
وفی تفسير روح المعاني: بقوله تعالى وَعَدَّدَهُ أي عده مرة بعد أخرى حبا له وشغفا به. وقيل: جعله أصنافا وأنواعا كعقار ونقود حكاه في التأويلات. وقال غير واحد: أي جعله عدة ومدخرا لنوائب الدهر ومصائبه (15/ 461)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فخر الاسلام سلام عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 6160کی تصدیق کریں
0     486
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات