السلام علیکم !
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہونگے، میں کینڈا میں رہتا ہوں ،اور یہاں گھر خریدنے ناکا منصوبہ بنارہاہوں، میرے لئے یہ نا ممکن ہے کہ میں نقداً گھر خریدوں ، ہمارے شہر میں فقط ایک ہی اسلامی بینک ہے، جو گروی رکھنے کا مطالبہ کر رہی ہے، میں ایسے طریقہ سے منسلک ہوا ہوں، جسے یہاں گروی رکھنا کہا جاتا ہے ، اس طریقہ کو میرے امریکہ اور کینڈا کے نائب نے منظور کیا ہے، برائے مہربانی آپ مذکور معاملہ پر نظر ثانی کریں اور مجھے بتائیں کہ ان کے ساتھ چلنا اچھا ہے، یا یہاں کوئی ایسی شرط ہے، جو شریعت کے خلاف ہے، جزاک اللہ
مار گیج کے ذریعہ حصول مکان کی صورت میں بھی اگر سودی معاملہ کرنا پڑتا ہو تو یہ بلاشبہ ناجائز ہے، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کرے ،اور اس کے بعد اپنا نفع رکھ کر ادھار معاملہ کے ذریعے کسٹمر کو قسطوں پر بیچ دے ،اور اس طرح قسطوں کے معاملے میں ابتداء ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اور قسطوں کا معاملہ ہو گا، اس میں کل اتنی قسطیں ہوں گی، اور ہر قسط کی مالیت یہ ہو گی، جبکہ اس کے علاوہ کوئی چار جز بھی وصول نہ کیے جاتے ہوں ،تو اس طرح کا معاملہ جائز اور درست ہو گا، اور اس طرح کسٹمر اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن جائے گا، لہذا اس طریقہ کار کے مطابق سائل کسی بھی بینک سے خریداری کا معاملہ کر سکتا ہے۔
كما قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفي الدر المختار: وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه. وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)۔
وفي حاشية ابن عابدين: وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي، وكان من كبار علماء سمرقند إنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا، فتكون ربا وهذا أمر عظيم اھ (5/ 166)