السلام علیکم! محترم مفتی صاحب سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں جانور ( سانپ یا ٹائیگر ) کو چڑیا گھر میں رکھنا اور مرغی جیسے دوسرے جانور کو کھانا کھلانے کے لیے بھیجنا اسلام میں حلال ہے یا ناجائز؟
واضح ہو کہ جانوروں کے حقوق کی رعایت رکھتے ہوئے چڑیاگھر میں جانوریا پرندے وغیرہ رکھنے اورانہیں کھانے کے طور پر مرغی یاکسی اور جانور کا گوشت کھلانے میں شرعا کوئی مضائقہ نہیں، البتہ ان جانوروں کی مندرجہ ذیل ضروریات کو پیش نظر رکھنا لازم و ضروری ہے۔
۱۔ ان کے گھاس ، دانے اور خوراک و غیر ہ کا خوب خیال رکھا جائے۔
۲۔ انہیں ستایا نہ جائے، اور نہ ہی انہیں تکلیف دی جائے۔
ففي صحيح البخاري: عن أنس، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم أحسن الناس خلقا، وكان لي أخ يقال له أبو عمير - قال: أحسبه - فطيما، وكان إذا جاء قال: «يا أبا عمير، ما فعل النغير» نغر كان يلعب به اھ (8/ 45)
و في فتح الباري لابن حجر : " إن في الحديث دلالة على جواز إمساك الطير في القفص ونحوه، ويجب على من حبس حيواناً من الحيوانات أن يحسن إليه ويطعمه ما يحتاجه لقول النبي صلى الله عليه وسلم " اھ (۱۰/ ۵۸۴)
و في صحيح البخاري: عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «دخلت امرأة النار في هرة ربطتها، فلم تطعمها، ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض» اھ (4/ 130)