مباحات

طلبہ کا پیسہ جمع کرکے اساتذہ کیلئے دعوت یا ہدیہ کا انتظام کرنا

فتوی نمبر :
62922
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

طلبہ کا پیسہ جمع کرکے اساتذہ کیلئے دعوت یا ہدیہ کا انتظام کرنا

السلام علیکم!
طلبہ یا طالبات آپس میں برابر برابر رقم اکٹھی کرکے اپنے اساتذہ یا معلمات کی دعوت یا ہدیے کا انتظام کرسکتے ہیں؟ باحوالہ جواب سے ممنون فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کبھی کبھار اگر طلبہ یا طالبات اپنے اساتذہ اور معلمات کی دعوت کرنا چاہیں اور سب طلبہ وغیرہ اپنی استطاعت اور گنجائش کے مطابق بخوشی رقم جمع کریں، اور جو طلبہ بخوشی اس میں شریک نہ ہوں تو ان کو طعن وتشنیع کا نشانہ بھی بنایا جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، لیکن اس طرح کی دعوتوں کا مستقل اہتمام کرنا یا اس کو لازمی اور تعلیم کا جزو لازم سمجھ لینا درست نہیں جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی شعب الایمان: عن ابی حمید السّاعدی، أن رسول اللہﷺ قال: لا یحلّ لامرئ أن یأخذ عصا أخیه بغیر طیب نفسه وذلك لشّدة ما حرّم اللہ عزّوجل مال المسلم علی المسلم. (۷/ ۳۴۷) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد طلحہ سرتاج عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 62922کی تصدیق کریں
0     851
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات