گناہ و ناجائز

نماز پڑھنے سے انکار کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
64911
| تاریخ :
2023-05-29
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

نماز پڑھنے سے انکار کرنے کا حکم

ترجمہ: میرےشوہر نماز پڑھنے جارہے تھے، تو میں نے ان کو بار بار بولا کہ پڑھ لیں دیر ہو رہی ہے، تو انہوں نے غصہ میں بولا کہ نہیں پڑھ رہا، کیا اس سے گناہ ملے گا اور اس کا کفارہ کیا ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کے شوہر نے اگر سائلہ کے بار بار کہنے پر غصہ میں نماز پڑھنے سے انکار کیا ہو تو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں تھا، اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوا ہے جس پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کےلیے دوبارہ اس قسم کے جملوں سے اجتناب لازم ہے ، البتہ اس کی وجہ سے اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الهندية: وقول الرجل لا أصلي يحتمل أربعة أوجه: أحدها:لا أصلي لأني صليت، والثاني: لا أصلي بأمرك، فقد أمرني بها من هو خير منك، والثالث: لا أصلي فسقا مجانة، فهذه الثلاثة ليست بكفر (268/2)
وفي البحر الرائق : وكذا قوله لا أصلي حين أمربها وقيل إنما يكفر إذاقصد نفي الوجوب اھ (131/5) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 64911کی تصدیق کریں
0     623
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات