ترجمہ: میرےشوہر نماز پڑھنے جارہے تھے، تو میں نے ان کو بار بار بولا کہ پڑھ لیں دیر ہو رہی ہے، تو انہوں نے غصہ میں بولا کہ نہیں پڑھ رہا، کیا اس سے گناہ ملے گا اور اس کا کفارہ کیا ہوگا؟
سائلہ کے شوہر نے اگر سائلہ کے بار بار کہنے پر غصہ میں نماز پڑھنے سے انکار کیا ہو تو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں تھا، اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوا ہے جس پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کےلیے دوبارہ اس قسم کے جملوں سے اجتناب لازم ہے ، البتہ اس کی وجہ سے اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں۔
كما في الهندية: وقول الرجل لا أصلي يحتمل أربعة أوجه: أحدها:لا أصلي لأني صليت، والثاني: لا أصلي بأمرك، فقد أمرني بها من هو خير منك، والثالث: لا أصلي فسقا مجانة، فهذه الثلاثة ليست بكفر (268/2)
وفي البحر الرائق : وكذا قوله لا أصلي حين أمربها وقيل إنما يكفر إذاقصد نفي الوجوب اھ (131/5) -