مباحات

بھائی کو بیماری کی حالت میں بیٹی کے حوالے کردینے سے بہن گناہ گار ہوگی ؟

فتوی نمبر :
65012
| تاریخ :
2023-06-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

بھائی کو بیماری کی حالت میں بیٹی کے حوالے کردینے سے بہن گناہ گار ہوگی ؟

میرے بھائی مرنے سے کچھ دن پہلے اپنے بچوں کے برے سلوک کی وجہ سے میرےپاس آگئے تھے ا نکی طبیعت خراب ہونے کے باعث میں انہیں لیکر ہسپتال جا رہی تھی کہ مجھے راستے میں پتہ چلا کہ ا نکی بڑی بیٹی ا نکا سا را ا کا ؤ نٹ ا پنے نا م کروا چکی ہے غصہ مین میں نے اسے بلایا اور کہا کہ وہ اپنے والد کو ہسپتال منتقل کر ےاور میں وہاں سے چلی اور بیٹےکی بھی حالت صحیح نہیں تھی وہ انکو ہسپتال لیکر گئی اور دوسرے دن انکا ا نتقال ہو گیا میں نے اس وجہ سے بھی بھائی کے نا چا ہتے ہوئے بھی ان کو بیٹی کے حوالے کیا کہ کل کو ان کو کچھ ہو گیا تو انکے بچےمجھے ا لزام دیں گے کہ ہمارے باپ کے ساتھ پتہ نہیں کیا کیا کہ ایسا ہو گیا اس ڈر سے میں نے ان کے نا چا ہتے ہوئے بھی ا ن کو ان کے بچوں کے پاس چھوڑ دیا تھا،اب مجھے میرا ضمیر چین نہیں لینے دیتا اور مجھے لگتا ہے کہ میں نے غلط کیا برا ئے مہر با نی مجھے بتائیں کہ کیا ا س تمام معاملات میں،میں گناہ گار ہوں اگر ہوں تو ا سکی تلا فی کیسے ممکن ہے اور میں کیا کروں کہ مجھے سکون مل جائے مجھے اپنے بھائی سے بہت محبت ہے ہر وقت دل اور دماغ صرف انکے بارے میں گم رہتے ہیں اور یہا ں تک کہ اب سوچ سوچ کر میری طبعیت خراب رہنے لگی اور کسی کام میں میرا دل نہیں لگتا میں ہر وقت ا پنے اپ کو ا نکا قصوروار سمجھتی ہوں اب یقینی مجھے قبر میں اسکا عذاب بھگتنا پڑے گا ؟مجھ پر رحم کر یں اور اسکا کوئی حل بتائیں کہ مجھے سکون مل جائے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ موت اور زندگی کا فیصلہ اللہ رب العزت کے قبضہ وقدرت اور اختیار میں ہے، کسی کا وقت پورا ہونے کے بعد انسان کی لاکھوں کوششیں اسے بچا نہیں سکتی ،اس لئے جب سائلہ نے اپنے بھائی کو اس کی بیٹی کے ساتھ ہسپتال بھیج دیا تھا ،تو اس کے بعد اس کی وفات کی صورت میں سائلہ کا اپنے آپ کوقصور وارقرار دینا درست نہیں ،البتہ اپنے بھائی کےساتھ خونی رشتہ اور تعلق کی وجہ سے ان کے جانے کا دکھ ہر حال میں ایک فطری اور طبعی امر ہے ،اور اس سے نکلنے کیلئے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائلہ اپنے مرحوم بھائی کی بخشش اور مغفرت کیلئے دعاؤں کے ساتھ حسب وسعت ایصال وثواب کا اہتمام کرے ،اللہ کی ذات عالیٰ سے امید ہے کہ اس کے ذ ریعہ سے سائلہ کو اس غم اور پریشانی سے باہر آنے میں مدد ملے گی .

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تنزیل العزیز: فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ الاٰیۃ( النحل:60 ).
وفی سنن ابی داؤد: عن أبي أسيد مالك بن ربيعة الساعدي، قال: بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذ جاءه رجل من بني سلمة، فقال: يا رسول الله، هل بقي من بر أبوي شيء أبرهما به بعد موتهما؟ قال: «نعم الصلاة عليهما، والاستغفار لهما، وإنفاذ عهدهما من بعدهما، وصلة الرحم التي لا توصل إلا بهما، وإكرام صديقهما» (4/336).

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیمان عظیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 65012کی تصدیق کریں
0     603
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات