مباحات

اسکول کے بچوں کو پڑھانےکیلئے چندہ لینا

فتوی نمبر :
66690
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

اسکول کے بچوں کو پڑھانےکیلئے چندہ لینا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلۂ ذیل کے بارے میں کہ اسکول ایک ٹرسٹ چلانا چاہتی ہے , اس ٹرسٹ سے جو غریب طلبہ و طالبات ہیں ان پر یہ رقم لگائی جائے گی , اور بہت سے والدین جو اپنی بچیوں کے نکاح کے وقت سود دیکر رقم قرض لیتے ہیں یہ ٹرسٹ ان کو قرض دیگا اور وہ سود سے بچ سکیں گے , یہ ٹرسٹ جو تجارت کرنے والے حضرات ہوں گے اگر ان کو رقم کی ضرورت پڑتی ہے تو یہ ٹرسٹ ان کو قرض دیگا , اصل سوال یہ ہے کہ تجارت کرنے والوں کو یہ کہنا کہ آپ اس ٹرسٹ میں حصہ لیں ڈونیشن دیں تاکہ غرباء حضرات کے بچوں اور مالدار لوگوں کے بچوں میں فرق نہ رہے , چونکہ اسکول کی آمدنی بہت کم ہے , غرباء بچوں کا خرچ خود اسکول اٹھائے گا , تو کیا ایسا تلقین کرنا کہ آپ لوگ بھی اپنی وسعت کے اعتبار سے اس میں ڈونیٹ کریں , ایسا کہنا کیسا ہے۔رہنمائی فرمائیں

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی جائز ضرورتی مہم کیلئے مسلمانوں سے تعاون کی اپیل کرنا اور اس پر لوگوں کواُبھارنا شرعاً جائز ہے،لہذا مستحقین افراد کی کفالت ، غریب بچوں/بچیوں کی اسلامی ماحول میں تعلیم،اور ان جیسے دوسرے جائز ضروری امور کے لئے کسی ادارہ /ٹرسٹ کا قیام کرنا اور ان مستحقین افراد کے لئے مخیر حضرات سے مالی امداد و دیگر صدقاتِ واجبہ(زکوۃ ، عشر ، کفارہ ، نذر) اور صدقاتِ نافلہ (صدقہ، ہبہ ) وصول کرنا فی نفسہ جائزہے،البتہ لوگوں سے لی گئی رقمیں پوری امانت و دیانت کے ساتھ شرعی ضابطہ کے مطابق خرچ کرنا ضروری ہے۔
لہذا صورتِ مسؤلہ میں مذکور سکول کی انتظامیہ کا ٹرسٹ قائم کر کے اس کے لئے تاجر اور مخیر حضرات سے ڈونیشن کی اپیل کرنا شرعاً جائز و درست ہے ،بشرطیکہ یہ ڈونیشن تاجروں کو قرض دینے کے ساتھ مشروط یا معروف نہ ہو , ورنہ قرض کے بدلے تعاون کی وجہ سے یہ شرعاً سود کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہوگا ،تاہم اگر اس کی نگرانی اور تمام معاملات کی دیکھ بھال کے لئے کسی مستند عالم دین یا مفتی صاحب کی خدمات لی جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ : ﴿الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ ۔ (البقرۃ:۲۷۴)۔
و في صحیح البخاري : حدثنا أبو بردة بن أبي موسى عن أبيه رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا جاءه السائل أو طلبت إليه حاجة قال : «اشفعوا تؤجروا ، و يقضي الله على لسان نبيه صلى الله عليه و سلم ما شاء» (2/ 113)-
و فی رد المحتار : (قوله و يكره التخطي للسؤال إلخ) قال في النهر : و المختار أن السائل إن كان لا يمر بين يدي المصلي و لا يتخطى الرقاب و لا يسأل إلحافا بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال و الإعطاء اهـ(2/ 164)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد طلحہ سرتاج عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66690کی تصدیق کریں
0     804
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات