مباحات

کیا فلسفہ کا مطالعہ کرنا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
66881
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کیا فلسفہ کا مطالعہ کرنا جائز ہے ؟

ترجمہ :کیا اسلام میں فلسفہ کا مطالعہ کرنا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اسلام میں فلسفہ کا مطالعہ کرنا یا پڑھا نا فی نفسہ مباح اور جائز ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ،البتہ اگر کسی شخص کی کم علمی کی وجہ سے اس کے بھٹک جانے اور راہِ راست سے ہٹ جانے کا ڈر ہو تو اس کیلئے فلسفہ کا مطالعہ کرنا جائز نہیں، بلکہ اس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار :واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين وهو بقدر ما يحتاج لدينه.(الی قولہ) ومندوبا، وهو التبحر في الفقه وعلم القلب. وحراما، وهو علم الفلسفة والشعبذة والتنجيم اھ۔
وفی حاشیتہ : وذكر في الإحياء أنها ليست علما برأسها بل هي أربعة أجزاء:أحدها: الهندسة والحساب، وهما مباحان، ولا يمنع منهما إلا من يخاف عليه أن يتجاوزهما إلى علوم مذمومة.اھ (1/43)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حشمت علی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66881کی تصدیق کریں
0     698
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات