(1) نومولود بچوں کو رات کے اوقات میں گھر سے نکالنا منع ہے کیا ؟
(2) ایسی کوئی حدیث ہےکہ " 3 اوقات (سورج ڈھلنے ، سورج ڈوبنے اور ایک کا ذکر نہیں کیا ) میں اگر بچے جنات لے جائیں تو اس میں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کو قصور وار مت قرار دینا " اگر ایسی کوئی حدیث ہے تو وہ کون سے اوقات بتاۓ ہیں ؟ وہ بھی رہنمائی کیجئے گا ؟
سوال میں مذکور الفاظ"3 اوقات (سورج ڈھلنے، سورج ڈوبنے اور ایک کا ذکر نہیں کیا ) میں اگر بچے جنات لے جائیں تو اس میں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کو قصور وار مت قرار دینا " پر مشتمل کوئی روایت تو ہمیں نہیں ملی ، البتہ بعض روایات میں مغرب سے عشاء تک شیاطین کی پھیل جانے کی وجہ سے بچوں کو باہر جانے سے منع کرنے کا تذکرہ ملتاہے ۔
کمافی صحیح مسلم : "قال رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَ صِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْبَعِثُ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ." رواه مسلم. قال النووي : الْفَوَاشِي كُلّ مُنْتَشِر مِنْ الْمَال كَالْإِبِلِ وَ الْغَنَم وَ سَائِر الْبَهَائِم وَ غَيْرهَا ، وَ فَحْمَة الْعِشَاء ظُلْمَتهَا وَ سَوَادهَا، وَ فَسَّرَهَا بَعْضهمْ هُنَا بِإِقْبَالِهِ وَ أَوَّل ظَلَامه ، وَكَذَا ذَكَرَهُ صَاحِب نِهَايَة الْغَرِيب، قَالَ : وَ يُقَال لِلظُّلْمَةِ الَّتِي بَيْن صَلَاتَيْ الْمَغْرِب وَ الْعِشَاء : الْفَحْمَة ، وَ لِلَّتِي بَيْن الْعِشَاء وَ الْفَجْر الْعَسْعَسَة" اھ (کتاب الاشربة ، بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَ إِيكَاءِ السِّقَاءِ: ص 2012)۔