مباحات

معمر نانی کے سرکاری وظیفے سے ان کے اخراجات کے بعد بچنے والی رقم کا حکم

فتوی نمبر :
67822
| تاریخ :
2023-09-20
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

معمر نانی کے سرکاری وظیفے سے ان کے اخراجات کے بعد بچنے والی رقم کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !
ہماری نانی صاحبہ کو تعلیمی وظیفہ گورنمنٹ کی جانب سے ماہانہ ملتا ہے ، ہم دو بھائی , والد ہ اور نانی ساتھ میں ایک ہی گھر میں رہتے ہیں ،نانی کے تمام اخراجات کھاناعلاج اور خدمت الحمد للہ ہم گھر کے افراد ہی کرتے ہیں اور جو وظیفہ ملتا ہے وہ نانی کے اخراجات کےساتھ ساتھ گھر کے خرچوں میں بھی استعمال ہوتا ہے ، نیز وقتاً فوقتاً بہنوں اور دیگر رشتہ داروں پر بھی خرچ کرتے رہتے ہیں اور یہ خرچہ والدہ کی نگرانی میں ہوتاہے , والد ہ اکلوتی بیٹی ہیں اور کوئی اولاد نہیں ہے , نانی صاحبہ عمر کی وجہ سے پیسوں کا حساب کتاب نہیں رکھ سکتیں ،ہم دو بھائیوں کے علاوہ چار بہنیں اور بھی ہیں جو تمام شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے گھر کی ہیں, ان تفصیلات کے بعد یہ سوال معلوم کرنا ہے کہ کیا شرعی طور پر بہنیں بھی اس وظیفے کے بچے ہوئے مال میں حق دار ہیں ؟کیا ماہانہ اس وظیفہ میں سے بہنوں کو نہ دینے کی وجہ سے گناہ ہوگا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی نانی کو گورنمنٹ کی طرف سے جو وظیفہ ملتا ہے، شرعاً وہ سائل کی نانی ہی کی ملکیت ہے ، چنانچہ نانی کے ضروری اخراجات سے جو رقم بچ جائے اس میں سائل،سائل کی والدہ اور بہن بھائیوں میں سےکسی کا بھی شرعاً کوئی حق نہیں بلکہ وہ رقم نانی کو حوالے کردینا یا نانی کے آئندہ ضروریات کیلئے محفوظ رکھنا لازم اور ضروری ہے ، جبکہ سائل کی نانی چونکہ سائل کے ساتھ گھر میں رہائش پذیر ہے اس لئے اگر گھر کے دیگر افراد کی کمائی کی طرح، نانی کو ملنے والے وظیفے کی رقم سے بھی ،عرف کے مطابق رقم مشترکہ اخراجات میں خرچ کی جائے، تو شرعاً اس میں کو ئی قباحت نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدرالمختار : لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه و لا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه .(6/200)۔
وفیہ ایضا :(النفقۃ لاصولہ )و لو اب امہ ذخیرہ (الفقرآء ) و لو قادرین علی الکسب (4/643)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
احمداللہ مولاداد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67822کی تصدیق کریں
0     602
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات