کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ایک ڈاکٹر اور اس کا عملہ کسی مریض کے علاج معالجے میں لگے ہوئے ہوں، دورانِ علاج یا آپریشن ہارٹ اٹیک یا کسی بھی وجہ سے مریض دم توڑ کر مرجائے ،اور میت کا منہ اعضاء و غیرہ ٹیڑھے ہو جائیں ، تو کیا ڈاکٹر یا ہسپتال کا عملہ میت کے گھر والوں کا انتظار کرے یا ان کے اعضاء وغیرہ خود ہی سیدھے کر سکتے ہیں،کیونکہ انتظار کرنے سے میت کے جسم کے ٹھنڈے ہونے کا خطرہ ہے،جس سے بعد میں اس کے اعضاء خشک ہو جائیں گے اور سیدھے کرنے میں بہت مشکل ہوگی ۔
دوران ِ علاج یا آپریشن اگر کوئی مریض ہارٹ اٹیک یا کسی بھی وجہ سے وفات پا جائے ،او ر مرنے کے بعد اس کے منہ،ہاتھ اعضاء وغیرہ ٹیڑھے ہونے لگے ،اور فی الحال ان کے رشتہ دار وغیرہ موجود نہ ہو ں ،تو ڈاکٹر اور عملہ کو انتظار کرنے کے بجائے از خود اس کے اعضاء درست کر لینے چاہیئے ،البتہ میت اگر کسی نا محرم کی ہو ،تو پھر مرد کے بجائے لیڈی ڈاکٹر یا کسی نرس کے ذریعہ یہ کام سرانجام دیا جائے ۔
کما فی الشامیۃ :(وإذا مات تشد لحياه وتغمض عيناه) تحسينا له، ويقول مغمضه: بسم الله وعلى ملة رسول الله اللهم يسر عليه أمره، وسهل عليه ما بعده، وأسعده بلقائك، واجعل ما خرج إليه خيرا مما خرج عنه ثم تمد أعضاؤه۔
(قوله ثم تمد أعضاؤه) أي لئلا يبقى مقوسا كما في شرح المنية وفي الإمداد وتلين مفاصله وأصابعه بأن يرد ساعده لعضده وساقه لفخذه وفخذه لبطنه ويردها ملينة ليسهل غسله اھ ۔
وفیھا ایضا : (قوله إلا من أجنبية) أي ما بين السرة والركبة اهـ (قوله فلا يحل مس وجهها) أي وإن جاز النظر إليه على ما يأتي (قوله ولذا تثبت به حرمة المصاهرة)اھ ۔(6/367)