ایک بچی جو اب بلوغت کے قریب ہے ،لیکن وہ اس کنڈیشن میں ہے کہ اچھا برا بالکل نہیں سمجھتی ، بولتی بھی نہیں ہے اور سنتی بھی نہیں ہے ، اس کی حرکات وسکنات بھی دیوانوں کی طرح ہیں ،اچانک گھر سے باہر نکل جائے تو خود گھر لوٹنا ممکن نہیں ،پاخانہ پیشاب کیلئے والدین نے اس کو پیمپر کرتے ہیں ، کیا آپریشن کے ذریعے اس کی ماہواری کو ختم کیا جاسکتا ہے ؟اور ایسے ہی آئندہ وہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو جائے گی ،کیا یہ اپریشن کروانا جائز ہے موجودہ صورت حال میں ؟
سوال میں ذکر کردہ بیان کے مطابق مذکور بچی کا اگرچہ ذہنی توازن مکمل طور پر درست نہیں ، جس کی وجہ سے وہ اپنی صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھ پاتی ،لیکن مستقبل میں علاج ومعالجے وغیرہ کے ذریعے اس کی صحت یابی کا امکان ہے،اس لئے محض اس عذر کی وجہ سے اس کی ماہواری ختم کرنے کیلئے آپریشن کرواکر اسے بچوں کی پیدائش کی صلاحیت سے محروم کردینا شرعاً درست نہیں ،جس سے اجتناب لازم ہے ،البتہ اگر اطباء کی رائے کے مطابق ماہواری رکوانے کیلئے کسی دواء کا استعمال مضر صحت اور باعث تکلیف نہ ہو ، تو ایسی صورت میں ماہواری روکنے کیلئے کسی دواء وغیرہ کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
کما فی الفقه الإسلامي وأدلته :وبناء عليه يجوز استعمال موانع الحمل الحديثة كالحبوب وغيرها لفترة مؤقتة، دون أن يترتب عليه استئصال إمكان الحمل، وصلاحية الإنجاب، قال الزركشي: يجوز استعمال الدواء لمنع الحبل في وقت دون وقت كالعزل، ولايجوز التداوي لمنع الحبل بالكلية. أو ربط عروق المبايض إذا ترتب عليه امتناع الحمل في المستقبل، والعبرة في ذلك لغلبة الظن اھ(2644/4)
وفی فتاوى اللجنة الدائمة:يجوز أن تستعمل المرأة أدوية في رمضان لمنع الحيض، إذا قرر أهل الخبرة الأمناء من الدكاترة ومن في حكمهم أن ذلك لا يضرها، ولا يؤثر على جهاز حملها، وخير لها أن تكف عن ذلك اھ(440/5) واللہ اعلم