کیا ایک مسلمان کے لئے درست ہے کہ وہ امریکا جاکر وہاں کام کرے اور مستقل رہائش حاصل کرے؟
کسی غیر مسلم ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنا، اس کی قومیت اختیار کرنا ،اور اس ملک کے ایک باشندے اور ایک شہری ہونے کی حیثیت سے اس کو اپنا مستقل مسکن بنا لینا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا حکم زمانے اور حالات کے اختلاف اور رہائش اختیار کرنے والوں کی اغراض و مقاصد کے اختلاف سے مختلف ہو جاتا ہے، مثلاً:اگر ایک مسلمان کو اس کے وطن میں کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچائی جارہی ہو ,یا اس کو جیل میں ظلماًً قید کر دیا جائے ، یا اس کی جائیداد ضبط کر لی جائے ، اور کسی غیر مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنے کے سوا ان مظالم سے بچنے کی اس کے پاس کوئی صورت نہ ہو ، تو ایسی صورت میں اس شخص کیلئے کسی غیر مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنا اور ملک کا ایک باشندہ بن کر وہاں رہنا بلا کراہت جائز ہے، بشر طیکہ وہ اس بات کا اطمینان کرلے کہ وہ وہاں جاکر عملی زندگی میں دین کے احکامات پر کار بند رہے گا۔ اسی طرح اگر کوئی معاشی مسئلہ سے دوچار ہو جائے ، اور تلاش و بسیار کے باوجود اسے اپنے اسلامی ملک میں معاشی وسائل حاصل نہ ہوں ،حتی کہ وہ " قوت لایموت" کا محتاج ہو جائے ، ان حالات میں اگر اس کو کسی غیر مسلم ملک میں کوئی جائز ملازمت مل جائے، جس کی بناء پر وہاں رہائش اختیار کرے تو اس کیلئے وہاں رہائش اختیار کرنا جائز ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی غیر مسلم ملک میں اس نیت سے رہائش اختیار کرتا ہے کہ وہ وہاں کے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دے گا ، اور ان کو مسلمان بنائے گا ، یا جو مسلمان وہاں مقیم ہیں ، اُن کو شریعت کے صحیح احکام بتائے گا ،اور ان کو دینِ اسلام پر جمے رہنے اور احکامِ شرعیہ پر عمل کرنے کی ترغیب دے گا ، اس نیت سے وہاں رہائش اختیار کرنا صرف یہ نہیں کہ جائز ہے ، بلکہ موجب اجر و ثواب ہے۔ اگر کسی کو اپنے ملک میں اس قدر معاشی و سائل حاصل ہیں جس کے ذریعے وہ اپنے شہر کے لوگوں کے معیار کے مطابق زندگی گزار سکتا ہے ، لیکن صرف معیارِ زندگی بلند کرنے کی غرض سے اور خوشحالی اور عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کی غرض سے کسی غیر مسلم ملک کی طرف ہجرت کرتا ہے ، تو ایسی ہجرت کراہت سے خالی نہیں ، اس لئے کہ اس صورت میں یہ دنیاوی ضروریات کیلئے اپنے آپ کو وہاں رائج شده فواحشات و منکرات کے طوفان میں ڈالنے کے مترادف ہے، اور بلا ضرورت اپنی دینداری اور اخلاقی حالت کو خطرے میں ڈالنا کسی طرح بھی درست نہیں، اس لئے جو لوگ صرف عیش و عشرت اور خوشحالی کی زندگی بسر کرنے کیلئے وہاں رہائش اختیار کرتے ہیں ، ان میں دینی حمیت کمزور پڑ جاتی ہے ، چنانچہ ایسے لوگ کافرانہ محرکات کے سامنے تیز رفتاری سے پگھل جاتے ہیں ، اسی وجہ سے حدیث شریف میں شدید ضرورت اور تقاضہ کے بغیر مشرکین کے ساتھ رہائش اختیار کرنے کی ممانعت آئی ہے، چنانچہ مندرجہ بالا تفصیل کو مد نظر رکھتے ہوکر کسی غیر مسلم ملک میں مستقل رہاہش اختیار کرنے نہ کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔