اگر بیوی کے دونوں گردے فیل ہوجائیں تو شوہر بیوی کو اپنا ایک گردہ عطیہ کر سکتا ہے کیا ؟
واضح ہوکہ عام حالات میں انسانی اعضاء سے کسی دوسرے انسان کا علاج اور ان کی خریدوفروخت چاہے رضامندی سے ہو ، معاوضۃً ہو یا بلا معاوضہ بہر صورت ناجائز اور حرام ہے ،جس کے بہت سارے مضر پہلو ہیں ، جو پوری انسانیت کے لئے تباہی کا راستہ بن سکتے ہیں ،لہذا شوہر کے لئے عام حالات میں بیوی کو گردہ عطیہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے ،البتہ اگر ایسی صورت ہو جائے کہ ماہر اور دیندار طبیب کی نظر میں بیوی کی جان بچانے کی کوئی دوسری صورت سوائے گردہ تبدیل کرنے کے ممکن نہ ہو ،اور جس سے گردہ لیا جارہا ہو ،اس کی بھی جان کو خطرہ نہ ہو، اور بیوی کی ہلاکت کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں شوہر کے لئے اپنی بیوی کو اپنا ایک گردہ عطیہ کرنے کی شرعاً گنجائش معلوم ہوتی ہے ۔
کما فی الھندیۃ: الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي. وإذا كان برجل جراحة يكره المعالجة بعظم الخنزير والإنسان لأنه يحرم الانتفاع به كذا في الكبرى اھ (5 /354) ۔
وفی البزازیۃ : خاف الھلاک جوعاً فقال لہ آخر اقطع یدی وکلہ لیس لہ ذالک لآن لحم الانسان لا بیاح فی حال الاضطرار لکرامتہ اھ(6/ 366) ۔
وفی الفتح القدیر:(ولا يجوز بيع شعر الخنزير) لأنه نجس العين فلا يجوز بيعه إهانة له،ويجوز الانتفاع به للخرز للضرورة فإن ذلك العمل لا يتأتى بدونه، ويوجد مباح الأصل فلا ضرورة إلى البيع،اھ(قولہ ثم يجوز الانتفاع به للضرورة) فإن الخرازين لا يتأتى لهم ذلك العمل بدونه (و) هو (يوجد مباح الأصل فلا حاجة إلى بيعه) فلم يكن بيعه في محل الضرورة حتى يجوز، وعلى هذا قال الفقيه أبو الليث: فلو لم يوجد إلا بالشراء جاز شراؤه لشمول الحاجة إليه. اھ (6/425) ۔
وفی البحر الرائق: وأما جلد الآدمي فليس فيه إلا كرامته وهو ما ذكره بقوله وحرمة الانتفاع بأجزاء الآدمي لكرامته ولا يخفى أن هذا مقام آخر غير طهارته بالدباغ وعدمها فلذا صرح في العناية بأنه إذا دبغ جلد الآدمي طهر لكن لا يجوز الانتفاع به كسائر أجزائه اھ (93/1) ۔