السلام علیکم! میں ایک آڈٹ فرم میں آرٹیکل شپ (انٹر نشپ) کر رہا ہوں اور ہمیں بینکوں کا آڈٹ کرنے کے لئے بھی جانا ہوتا ہے، میں نے پچھلے فتویٰ میں پڑھا کہ بینک کا آڈٹ جائز ہے، تو کیا اس میں جا کے ہمیں جو چائے وغیرہ ملتی ہے اور وہاں کا پانی پینا اور وہاں وضو کر کے نماز پڑھنا بھی جائز ہے؟
بینک کے آڈٹ کے دوران بینک کی طرف سے ملنے والی چائے وغیرہ کیوجہ سے اگرآڈٹ میں کسی قسم کی خیانت اور کوتاہی کا اندیشہ نہ ہو تو اسے استعمال کرنے کی گنجائش ہے،تاہم اس سے اجتناب بہتر ہے۔
جبکہ بینک میں موجود پانی سے وضوء کرکے نماز پڑھنا جائز اور درست ہے۔
كما قال الله تعالٰى: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [المائدة: 2]
وفي فقه البيوع: أموال البنك الربوي داخل فی الصورة الثالثة من القسم الثالث، فيجوز التعامل معها بقدر ما فيها من الحلال۔ اھ (2/ 1061)
وفيه ايضاً: أما إذا كان الحلال مخلوطا بالحرام دون تمييز أحدهما بالآخر فإنه لا عبرة بالغلبة فى مذهب الحنفية بل يحل الانتفاع من المخلوط بقدر الحلال سواء أكان الحلال قليلاً أم كثيراً۔ اھ (2/ 1032)
وفى تكملة فتح الملهم: فاذا وجد بنك معظم دخله حلال، جاز فيه التوظف، للنوع الثاني من الاعمال والله اعلم۔(1/ 619)