کیا مسلمان کے لئے اپنے انتہائی قریبی ہندو دوست کی شادی میں شرکت کرنا جائز ہے ؟ میں نے سنا ہے کہ یہ خاص طور پر جائز نہیں ہے ، جب وہ تمام رسوم جیسے منگل سوتر ، پھیرے و غیرہ کریں گے ، شادی کراچی کی بینکویٹ ہال میں ہوتی ہے ،مندر میں نہیں ۔
کسی بھی مسلمان کیلئے ہندو سمیت کسی بھی غیر مسلم شخص کے ساتھ دوسرے مسلمان کی طرح دلی محبت اور تعلق رکھنا تو شرعاً ممنوع ہے ، اس لئے ایسی دوستی اور تعلق سے احتراز لازم ہے ، البتہ اگر پڑوسی ہونے کے ناطے یا اس جیسا کسی دوسرے تعلق کی بنا پر کوئی ہندو شخص مسلمان کو اپنی شادی کی دعوت دے اور اس دعوت کے موقع پر ان کی مذہبی رسومات پوجا یا گانا بجانا وغیرہ دیگر گناہ کا کوئی کام نہ ہو ، تو ایسی صورت میں مسلمان کے لئے ہندو شخص کے کھانے کی دعوت میں شرکت کرنا فی نفسہ مباح ہے ، البتہ اگر دعوت کے موقع پر ان غیر شرعی امور کے ارتکاب کا یقین ہو تو ایسی صورت میں اس دعوت میں شرکت کرنا جائز نہ ہوگا ۔
قال اللہ تعالی ! یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود و النصری اولیاء بعضھم اولیآء بعض و من یتولھم منکم فإنہ منھم إن اللہ لا یھدی القوم الظالمین اھ ( آیتـ 51 سورۃ المائدۃ )
و فی الھندیۃ: و عن محمد رحمہ اللہ تعالی ( إلی قولہ ) و لابأس بضیافۃ الذمی و إن لم یکن بینھما إلا معرفۃ کذا فی الملتقط، و فی التفاریق لا بأس بأن یضیف کافرا لقرابۃ أو لحاجۃ کذا فی التمرتاشی، و لا بأس بالذھاب إلی ضیافۃ أھل الذمۃ ھکذا ذکر محمد رحمہ اللہ تعالی و فی أضحیۃ النوازل المجوسی أو النصرانی إذا دعا رجلا إلى طعامه تكره الْإِجابة، وإِنْ قال : اشْتريت اللحم من السوق فإن كان الداعي نصرانيا فلا بأس به اھ ( کتاب الکراھیۃ الباب الرابع عشر فی أھل الذمۃ الخ ج 5 صـ 347 ط : ماجدیۃ )
و فی الدر المختار: (دعی إلی ولیمۃو ثمۃ لعب أو غناء قعد أو اکل ) لو المنکر فی المنزل ، فلو علی المائدۃ لا ینبغی أن یقعد بل یخرج معرضاً لقولہ تعالی: فلا تقعد بعد الذی کری مع القوم الظالمین ۔ ( فان قدر علی المنع فعل و الا ) یقدر ( صبر إن لم یکن ممن یقتدی بہ فان کان ) مقتدی ( و لم یقدر علی المنع خرج و لم یقعد ) لأن فیہ شین الدین و المحکی عن الامام کان قبل أن یصیر مقتدی ( و إن علم أو لا ) باللعب ( لا یحضر أصلا ) سواء کان ممن یقتدی بہ أو لا لأن حق الدعوۃ إنما یلزمہ بعد الحضور لا قبلہ إبن کمال اھ ( کتاب الحظر و الاباحۃ ج 6 ص 348 ،347 ط : سعید )