السلام علیکم
1۔کیا یہ عقیدہ رکھنا کہ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے نزدیک درود وسلام سنتے اور جواب دیتے ہیں“ درست ہے ؟کیوں کہ اسکی دلیل میں جو حدیث آتی ہے محمد بن مروان اس کی سند میں آتا ہے جو کہ ثقہ نہیں ہے سو یہ حدیث قطعی دلیل نہیں بن سکتی۔
2۔کیا اس عقیدے پر کوئی قطعی دلیل ہے؟
3۔کیا یہ سننا مافوق الاسباب ہے کیوں کہ درمیان میں دیواریں ہیں اور دیوار کہ پار سننا مافوق الاسباب ہے اور اگر ہے تو کیا مافوق الاسباب سننا صرف اللہ کی صفت نہیں؟ تو پھر کیا یہ شرک نہیں ہے؟
براہ کرم تفصیلی جواب دے کہ میری تشنگی دور فرمائیں جزاک اللہ۔
نبی کریم ﷺ کا روضہ اقدس میں بذات خوددرود و سلام سننا اور اس کا جواب دینا اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک ثابت ہے اور اس پر متعدد صحیح احادیث دلالت کرتی ہیں ۔لہٰذا اسے کسی ایک ضعیف روایت پر موقوف سمجھنا درست نہیں۔ حدیث شریف میں ہے: ”ما من أحدٍ يسلِّم عليَّ إلا ردَّ الله عليَّ روحي حتى أردَّ عليه السلام“(ابوداؤد) یعنی جب بھی کوئی مجھ پر سلام بھیجتاہے تو اللہ تعالی مجھ پرمیری روح لوٹا دیتاہے یہاں تک میں اس کا جواب دیدیتاہوں اور ایک روایت میں ہے: ”إنَّ لله ملائكةً سيَّاحين في الأرض يبلِّغونني من أمتي السلام“(نسائی) یعنی اللہ تعالیٰ نے ایسے فرشتے مقرر فرمائے ہیں جو امت کا سلام حضور ﷺ تک پہنچاتے ہیں۔ رہا یہ اشکال کہ درمیان میں دیواریں یا فاصلے حائل ہوتے ہیں، تو یہ امر مانع نہیں،کیونکہ سلام کا پہنچنا عام مادی اسباب کے ذریعے ضروری نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے پہنچا دیتا ہے، خصوصاًجب ہم عام مشاہدہ میں دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بھی بہت سی آوازیں اور پیغامات ایسے ذرائع سے منتقل ہو جاتے ہیں جو ظاہری رکاوٹوں سے متاثر نہیں ہوتے، تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے دیوار کا حائل ہونا بدرجۂ اولیٰ بے معنی ہے۔
مزید یہ کہ نبی ﷺ کا سننا ذاتی اور مستقل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اذن و عطا سے ہے؛ لہٰذا اسے اللہ کی صفت کے ساتھ خلط ملط کرنا یااسے شرک قرار دینا درست نہیں۔ شرک تب لازم آتا ہے جب کسی مخلوق کے بارے میں مستقل بالذات قدرت کا عقیدہ رکھاجائے، جبکہ یہاں معاملہ محض عطائے الٰہی کا ہے۔
پس نبی کریم ﷺ کے درود و سلام سننے اور جواب دینے کا عقیدہ درست ہے، اور دیوار یا فاصلے کا اشکال اس پر اثر انداز نہیں ہوتا، کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور مقرر کردہ اسباب کے تحت ہوتا ہے۔
کما فی سنن ابی داود: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ما من أحد يسلم علي إلا رد الله علي روحي حتى أرد عليه السلام الخ(کتاب المناسک،باب زیارۃ القبور،ح2041،ص218،ط:المکتبۃ العصریۃ)۔
وفی حیاۃ الانبیاء للبیھقی: عن أبي هريرة ، رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من صلى علي عند قبري سمعته ومن صلى علي نائيا أبلغته الخ (ص 103،ح18،ط:مکتبۃ العلوم والحکم)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح:ومن صلى علي عند قبري سمعته" : أي [سمعا] حقيقيا بلا واسطة، قال الطيبي: هذا لا ينافي ما تقدم من النهي عن الاعتياد الدافع عن الحشمة، ولا شك أن الصلاة في الحضور أفضل من الغيبة. انتهى، لأن الغالب حضور القلب عند الحضرة والغفلة عند الغيبة، (ومن صلى علي نائيا) ، أي: من بعيد كما في رواية: أي بعيدا عن قبري (" أبلغته ") : وفي نسخة صحيحة: بلغته من التبليغ، أي: أعلمته كما في رواية الخ(کتاب الصلاۃ،باب الصلاۃ علی النبیﷺ و فضلہ،ج2،ص749،ط:دار الفکر بیروت)۔
وفی فتح الباری: وأخرجه أبو الشيخ في كتاب الثواب بسند جيد بلفظ من صلى علي عند قبري سمعته ومن صلى علي نائيا بلغته الخ(قوله باب قول الله تعالى واذكر في الكتاب مريم الخ،ح3441،ج6،ص488،ط:دار المعرفۃ)
وفی المرقاۃ تحت الحدیث: (وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صلى علي عند قبري سمعته، ومن صلى علي نائيا أبلغته، رواه البيهقي: في: شعب الإيمان ). قال ميرك نقلا عن الشيخ: ورواه أبو الشيخ، وابن حبان في كتاب: ثواب الأعمال، بسند جيد الخ( کتاب الصلاۃ، باب الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم وفضلها،ح934،ج2،ص749،ط:دار الفکر بیروت)۔
وفی القول البدیع: أخرجه أبو الشيخ في الثواب له من طريق أبي معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عنه ومن طريقه الديلمي وقال ابن القيم أنه غريب قلت: وسنده جيد كما أفاده شيخنا الخ(الباب الرابع في تبليغه صلى الله عليه وسلم سلام من يسلم عليه ورده السلام،ص160،ط:دار الریان للتراث)۔
وفی الھندیۃ: السلام عليك يا نبي الله ورحمة الله وبركاته أشهد أنك رسول الله قد بلغت الرسالة وأديت الأمانة ونصحت الأمة وجاهدت في أمر الله حتى قبض روحك حميدا محمودا فجزاك الله عن صغيرنا وكبيرنا خير الجزاء وصلى الله عليك أفضل الصلاة وأزكاها وأتم التحية وأنماها( الی قولہ) ويبلغه سلام من أوصاه فيقول: السلام عليك يا رسول الله من فلان بن فلان يستشفع بك إلى ربك فاشفع له ولجميع المسلمين الخ( کتاب المناسک،خاتمۃ فی زیارۃ قبر النبیﷺ،ج1،ص265،ط: ماجدیۃ)۔
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0