مباحات

حساب کتاب کرنے والے عاملین سے علاج کرانے کا حکم

فتوی نمبر :
70633
| تاریخ :
2024-01-30
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

حساب کتاب کرنے والے عاملین سے علاج کرانے کا حکم

آج کل کچھ عالم دین دعا پڑھ کر ناف صحیح کرتے ہیں اور کوئی حساب لگا کر اور بھی مرض بتا دیتے ہیں جیسے کوری اور دل کے امراض کا ہونا اس کے لیئے وہ ہمارا نام اور والدہ کا نام پوچھ لیتے ہیں۔ کیا یہ ان کے پاس غیب کا علم ہوتا ہے ؟ کیا ایسے علاج کروانا درست ہے؟ کیا اسلام اس حساب کتاب والے علم کی اجازت ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے،اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ یہ علم کسی کے پاس نہیں ہے،اور نہ ہی کوئی انسان اس کا دعویٰ کرسکتاہے،لہذا کوئی بھی شخص علم غیب کا دعویٰ کرےتو یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے،اور ایسے شخص سے علاج کرانا بھی شرعاً ناجائز وحرام ہے جس سے اجتناب لازم ہے،لہذا جو عاملین نام اور والدہ وغیرہ کانام پوچھ کرعلاج کرتے ہیں اور کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں ،اگر یہ محض تجربہ کی حدتک ہو تو ایسا کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہیں،اور اگر وہ معلومات مستقبل کی خبروں پر مشتمل ہوں یا خبر دینے والے اس کو باقاعدہ علم الغیب کہہ کر ایسی معلومات فراہم کرتےہوں تو یہ شرعاً ناجائز ہے،اور ایسے علاج کرانا بھی حرام ہے،البتہ ناف درست کرنے یا دیگر جسمانی بیماریوں کے علاج کے لئے اختیار کیا گیا طریقہ قرآن وسنت کا مخالف نہ ہو تو ایسا علاج شرعاً جائز اور احادیث مبارکہ سے دعاوؤں ،دم وغیرہ کے ذریعے جسمانی امراض کا علاج بھی ثابت ہے،اس لئے اس میں شک اور وہم میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ:إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (لقمان،34)۔
وفی شرحالنووی علی مسلم: (أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن)الخ
قال بن الأعرابي ويقال حلوان الكاهن الشنع والصهميم قال الخطابي وحلوان العراف أيضا حرام قال والفرق بين الكاهن والعراف أن الكاهن إنما يتعاطى الأخبار عن الكائنات في مستقبل الزمان ويدعي معرفة الأسرار) والعراف هو الذى يدعى معرفة الشئ المسروق ومكان الضالة ونحوهما من الأمور هكذا ذكره الخطابي في معالم السنن في كتاب البيوع ثم ذكره في آخر الكتاب أبسط من هذا فقال إن الكاهن هو الذي يدعي مطالعة علم الغيب ويخبر الناس عن الكوائن قال وكان في العرب كهنة يدعون أنهم يعرفون كثيرا من الأمور فمنهم من يزعم أن له رفقاء من الجن وتابعة تلقي إليه الأخبار ومنهم من كان يدعي أنه يستدرك الأمور بفهم أعطيه وكان منهم من يسمى عرافا وهو الذي يزعم أنه يعرف الأمور بمقدمات أسباب يستدل بها على مواقعها كالشئ يسرق فيعرف المظنون به السرقة وتتهم المرأة بالريبة فيعرف من صاحبها ونحو ذلك من الأمور ومنهم من كان يسمي المنجم كاهناالخ(ج10/ص232ط: بيروت)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظفراللہ نعمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70633کی تصدیق کریں
0     23
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات