السلام علیکم ورحمۃاللہ !میرا سوال یہ ہے کہ حاملہ عورت کے لئے روزہ کا کیا حکم ہے ؟
حا ملہ عورت پر بھی عام حالت میں روزہ رکھنا لازم ہے ، البتہ اگر ماہر دیندار ڈاکٹر حمل کی وجہ سے روزہ رکھنے سے منع کر دے تو روزہ چھوڑنے کی بھی گنجائش ہے ، لیکن وضع حمل کے بعد جلداز جلد ان روزوں کی قضاکر لینی چاہیئے ، اتنی تاخیر کر دینا کہ اگلا رمضان آجائے درست نہیں، بلکہ اس صورت میں گناہ کا قوی اندیشہ ہے ۔
کما فی الدرالمختار: وخوف هلاك أو نقصان عقل ولو بعطش أو جوع شديد ولسعة حية (لمسافر) سفرا شرعياولو بمعصية (أو حامل أو مرضع) أما كانت أو ظئرا على ظاهر (خافت بغلبة الظن على نفسها أو ولدها) (أو مريض خاف الزيادة) لمرضه وصحيح خاف المرض، وخادمة خافت الضعف بغلبة الظن بأمارة أو تجربة أو بأخبار طبيب حاذق مسلم الخ (فصل فی العوارض المبیحۃ لعدم الصومج2 ص422 ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً: (وقضوا) لزوما (ما قدروا بلا فدية و) بلا (ولاء) الخ(ج2 ص422 ط:سعید)۔