کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام! اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے مدرسہ " المدرسۃ محى السنۃ ، لو ہغاؤں ، ہلو صيا، باجتبور ، کشور غنج ، بنغلادیش " کےمہتم صاحب کے بارے میں لوگ شکایت کرتے ہیں کہ وہ وقت پر مدرسہ میں نہیں آتے ، لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ وقت پر آتے ہیں ، اب جنابِ عالی مفتی صاحب سے پوچھنا یہ تھا کہ کیا اسکول ، کالج اور مدرسہ میں طلبہ اور اساتذہ کے درس و تدریس ، وقت کی پابندی اور اخلاق کی نگرانی کے لئے سی سی ٹی وی کیمرہ نصب کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا -
نوٹ : مہتم صاحب جب مدرسہ میں ہوتا ہے تو تمام اساتذہ اور طالباء اپنے اپنے کام اچھے طریقہ سے سر انجام دیتے ہیں اور جب مہتم صاحب نہیں ہوتا تو پھر عموما اساتذہ اور طلباء اپنے اپنے کام صحیح طریقہ سے نہیں کرتے ۔
حفاظت اور نگرانی و غیرہ جیسےجائز مقاصد کے لئے اسکول ، کالج اور مدارس میں عمومی مقامات پر سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے نصب کرنے کی گنجائش ہے۔
كما في شرح السير الكبير لشمس الأئمة السرخسي : وإن تحققت الحاجة له إلى استعمال السلاح الذي فيه تمثال فلا بأس باستعماله ، لأن مواضع الضرورة مستثناة من الحرمة كما في تناول الميتة (باب مايكره في دار الحرب وما لا يكره ، ج 1 ، ص ١٤63)-
و في تكملة فتح الملهم شرح صحيح مسلم لشيخ الإسلام تقی عثمانی حفظه الله : أما الصورة التي ليس لها ثبات و استقرار، وليست منقوشة على شيء بصفة دائمة، فإنها بالظل أشبه منها بالصورة ويبدو أن صورة التلفزيون والفيديو لا تستقر على شيء في مرحلة من المراحل إلا إذا كان في صورة " فيلم " فإن كانت صورة الإنسان حية بحيث تبدو على الشاشة في نفس الوقت الذي يظهر فيه الإنسان أمام الكيمرا فإن الصورة لا تستقر على الكيمرا ولا على الشاشة، وإنما هي أجزاء كهربائية تنتقل من الكيمرا إلى الشابشة وتظهر عليها بترتيبها الأصلي ثم تفنى وتزول (إلى قوله ) وعلى هذا ، فتنزيل هذه الصورة منزلة الصورة المستقرة مشكل الخ ( باب تحريم تصوير صورة الحيوان الخ ج 4، ص 164، ط : مكتبة دار العلوم ، كراتشي)-
وفي شرح المجلة : الضرورات تبيح المحظورات (المادة ٢١ ، ج ا ص 55 ، ط: مكتبة إسلامية)-
و فيه أيضا : يتحمل الضرر الخاص لدفع الضرر العام ( الى قوله) الضرر الأشد يزال بالأخف ( المادة، ۲۷-۲6 ج ۱، ص 67-68ط : مكتبة إسلامية)-