محترم ، السلام علیکم !
میرے سسرال والے قادیانیوں کےگھر کی حفاظت کرنے والوں کے ساتھ تعلقات رکھے ہوئے ہیں , جبکہ وہ لوگ ربوہ بھی ہوکر آئے ہیں , وہ کہتے ہیں ہم قادیانی نہیں ہیں،ان لوگوں کے کام سے ربوہ گئےتھے ، ان کی ایک بیٹی بچپن سے انہی قادیانیوں کے گھر رہی ہے , میری ساس اس لڑکی کو پڑھاتی تھی , اس لڑکی کو میر ی ساس نے منہ بولی بیٹی بنایا ہواہے ، میری بیوی کی بھی وہ لڑکی دوست تھی , اب میں نے منع کر دیا ہے اپنی بیوی کو اس لڑکی سےتعلقات رکھنے سے , میرے سسرال والے کہتے ہیں کہ وہ لوگ قادیانیوں کےگھر کی چوکیداری کر رہے ہیں , اسی گھر میں رہتے ہیں اوران قادیانیوں سے تنخواہ لیتے ہیں وہ قادیانی لندن میں رہتے ہیں ، کیامیرے سسرال والوں کو ایسے لوگوں سے تعلقات رکھنا چاہیئےجن کا قادیانیوں سے تعلق ہو ؟ وہ نہیں مانتےکہ اسلام میں اس کی ممانعت ہے ، ، ہم اس لڑکی سے تعلقات رکھیں گے۔ براہِ مہربانی رہنما ئی فر مائیں۔
واضح ہو کہ قادیانی نبی آخرالزمان محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کےمنکرہونےکی وجہ سے بلا شبہ مرتد،زندیق اوردائرۂ اسلام سےخارج ہیں،کسی مسلمان کےلئے ان سےکسی قسم کاتعلق رکھنا ناجائزاورحرام ہے، لہذا اولاً تو مذکور فیملی کے لئے قادیانیوں کے یہاں ملازمت کرنا شرعاً درست نہیں ، بلکہ انہیں اس کے علاوہ کسی دوسری جگہ حلال اور جائز ذریعۂ معاش تلاش کرنا چاہیئے ، تاہم جب تک انہیں اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ معاش نہ ملے اور یہ فیملی فقط قادیانیوں کے گھر کی چوکیداری کرتی ہو اور اس کے عقائد و نظریات قادیانیوں والے نہ ہو ں ، بلکہ یہ لوگ بھی دیگر مسلمانوں کی طرح قادیانیوں کو کافر اور زندیق سمجھتے ہوں ، تو ایسی صورت میں سائل کے گھر والوں کے لئے ان سے تعلق رکھنے میں کوئی حرج نہیں ، تاہم انہیں سمجھانا اور قادیانیوں کے کفریہ عقائد اور ان کی حقیقت اس فیملی پر واضح کرنا لازم اور ضروری ہے ، تاکہ یہ لوگ قادیانیوں کے دجل و فریب میں گرفتار ہونے سے بچنے کے ساتھ ساتھ جلد از جلد جائز ذریعۂ معاش کا انتظام کر سکیں ۔
كما قال الله تعالى : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ( سورة المائدة، الأية : 51)-
و قال تعالى أيضا : فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ( سورة الأنعام، الأية : 68)-
و قال تعالى في أية أخرى : ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شيء عليما ( سورة الأحزاب، الأية : 40)-
و في أية أخرى : وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ الخ (سورة الأحزاب، الأية : 40)-
و في تفسير روح المعاني : وقوله تعالى : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ أي من جملتهم، وحكمه حكمهم كالمستنتج مما قبله، وهو مخرج مخرج التشديد والمبالغة في الزجر( ج 3، ص 365، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
و في صحيح البخاري : عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن مثلي ومثل الأنبياء من قبلي كمثل رجل بنى بيتا فأحسنه وأجمله إلا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فأنا اللبنة وأنا خاتم النبيين ( باب خاتم النبيين، ج 4، ص 186، ط : السلطانية)-
و في الفتاوى الهندية : إذا لم يعرف الرجل أن محمدا صلى الله عليه وسلم آخر الأنبياء عليهم وعلى نبينا السلام فليس بمسلم كذا في اليتيمة ( مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام ، ج 2، ص 257 ، ط : دار الفكر، بيروت)-
وفي الدر المختار : (ويزول ملك المرتد عن ماله زوالا موقوفا، فإن أسلم عاد ملكه، وإن مات أو قتل على ردته) أو حكم بلحاقه (ورث كسب إسلامه وارثه المسلم) ولو زوجته بشرط العدة زيلعي (إلى قوله) ويتوقف منه المفاوضة والتصرف على ولده الصغير. والمبايعة والعتق والتدبير والكتابة والهبة والإجارة والوصية إن أسلم نفذ، وإن هلك أو لحق بدار الحرب وحكم بطل ( كتاب الجهاد، ج 4، 245، ط : سعيد)-