میرا سوال یہ ہے کہ میں نے گورنمنٹ جاب کیلئے اپلائی کیا تھا ،جس میں ہم پاس بھی ہوگئے , ہمارے سارے کاغذات بھی چانچ پڑتال کے مراحل سے گزر گئے مگر ہمیں نوکری نہیں ملی، ہم جہاں تک کوشش کر سکتے تھے مطلب آگے درخواستیں بھی جمع کروائیں لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا ،سب کہتے ہیں کہ پیسوں کا چکر ہے , کیا اس کیلئے پیسے دینا مناسب ہے؟ کیوں کے ہم ویسے تو ہر چیز میں eligible ہیں بس وہ لوگ تنگ کر رہے ہیں ،کیا کریں گھر والے بھی کہتے ہیں اس کے بغیر کام نہیں ہوگا۔
سائل اگر مذکور ادارے میں ملازمت کے حصول کے تمام مراحل سے گزرکر کامیاب ہو چکا ہو ، اور میرٹ پر منتخب ہونے والوں کی فہرست میں شامل ہو نے کے ساتھ ساتھ اس میں اسامی کی اہلیت اور قابلیت بھی موجود ہو ، مگر محکمہ کی انتظامیہ فقط رقم اور پیسوں کی وصولی کے لئے اسے اس اسامی پر نامزد کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہو ، تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل کے لئے اپنے ثابت شدہ حق کی وصولیابی کی خاطر رقم دینے کی اگر چہ گنجائش ہے ، مگر لینے والے کے لئے بہر صورت رشوت لینا ناجائز اور حرام ہو گا -
کما فی ردالمحتار: (قوله وكره البيع)كما لو اضطر إلى دفع رشوة لإحياء حقه جاز له الدفع وحرم على القابض(مطلب فی التداوی بلبن البنت للرمد قولان ج 5 ص72 ط:سعید)۔