مباحات

اپنے ملک کے جھنڈے کو سلام کرنا

فتوی نمبر :
72617
| تاریخ :
2024-04-21
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

اپنے ملک کے جھنڈے کو سلام کرنا

کیا اسلام میں اس بات کی اجازت ہے کہ بطور فورس آفیسر ملک کے جھنڈے کو سلامی دے اور قومی ترانہ پڑھتے وقت کھڑا ہو؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قومی پرچم کو سلامی دینا یا قومی ترانہ کے وقت کھڑا ہونا وطن سے محبت کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خالص انتظامی معاملہ ہے، جس کے ثبوت و عدم ثبوت وغیرہ کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا اس عمل کو اگر دین کا حصّہ سمجھ کر ثواب کی غرض سے نہ کیا جائے تو ایسا کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: تجوز الخدمة لغير الله تعالى بالقيام وأخذ اليدين والانحناء الخ ( ج۵، ص۳۶۹، ط۔ماجدیہ)۔
وفی الشامیۃ: وفي مشكل الآثار القيام لغيره ليس بمكروه لعينه إنما المكروه محبة القيام لمن يقام له، فإن قام لمن لا يقام له لا يكره.اھ (ج۶، ص۳۸۳، باب الاستبراء وغیرہ، کتاب الحظر و الاباحۃ، ط۔ سعید)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72617کی تصدیق کریں
0     1318
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات