مباحات

بیمار اور معذور شخص کے زیر ناف بال کاٹنے کا حکم

فتوی نمبر :
72652
| تاریخ :
2024-04-22
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

بیمار اور معذور شخص کے زیر ناف بال کاٹنے کا حکم

السلام عليکم ! مفتی صاحب ! کوئی شخص اگر اتنا زیادہ معذور ہو جائے کہ وہ خود اپنے زیر ناف بال صاف نہ کر سکتا ہو، تو کیا مرد ہونے کی صورت میں اس کے بیٹے یا بھائی ، اسی طرح عورت ہونے کی صورت میں اس کی بیٹی یا بہو اس کے زیر ناف بال صاف کر سکتی ہیں ؟ براہ ِمہربانی رہنمائی فرمائیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر کوئی شخص واقعۃً اتنا زیادہ معذور یا بیمار ہو جائے کہ از خود کسی طرح زیرناف بال صاف نہ کر سکتا ہو ، اور اس کی بیوی بھی موجود نہ ہویا کوئی خاتون اس قدر بیمار ہو کہ وہ اپنے زیر ناف بال صاف نہ کر سکتی ہو اور اس کا شویر بھی موجود نہ ہو تو ایسی صورت مین بیٹے یا بھائی کے لئے اپنے والد یا بھائی کے زیر ناف بال صاف کرنے کی اور بیٹی یا بہو کے لئے اپنی والدہ یا ساس کے زیر ناف بال صاف کرنے کی گنجائش ہے ، مگر زیر ناف بالوں کی صفائی کرتے وقت حتی الامکان اپنی نظروں کی حفاظت لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفتاوى الهندية : في جامع الجوامع حلق عانته بيده وحلق الحجام جائز إن غض بصره كذا في التاترخانية اهـ ( الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها الخ، ج 5، ص : 358 ، ط : دار الفکر)-
وفي الفتاوى التاتارخانية : وذكر الفقيه أبو الليث في فتاواه : في باب الطهارات : قال محمد بن مقاتل الرازي : لا بأس بأن يتولى صاحب الحمام عورة إنسان بيده عند التنوير، إذا كان يغض بصره . كما أنه لا بأس به إذا كان يداوي جرحا أو [قرحا] قال الفقيه وهذا في حالة الضرورة لا في غيرها وينبغي لكل أحد أن
يتولى عانته بيده إذا تنور اھ (الفصل التاسع فيما يحل للرجل النظر إليه وما لا يحٓل ، ج 18 ، ص : 99 ، ط : رشيدية)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالمجید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72652کی تصدیق کریں
1     1985
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات